گورنر کا اجلاس غیر آئینی ہے، کسی غیر قانونی حکم پر عمل نہیں ہوگا، سہیل آفریدی

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، صوبائی اسمبلی اور کابینہ مکمل طور پر فعال ہیں، ایسے میں گورنر کی جانب سے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو طلب کرکے اجلاس کی صدارت کرنا غیر آئینی اقدام ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے گورنر کی جانب سے گزشتہ روز امن و امان سے متعلق اجلاس بلائے جانے پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ اس اقدام کی آئینی حیثیت کے بارے میں ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کے لیے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے اور اس مقصد کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی کو جمہوری مینڈیٹ کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم صوبائی حکومت اشتعال انگیزی کا جواب آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دے گی۔ ان کے مطابق گورنر کی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو ایسے ردعمل پر اکسانا ہو سکتا ہے جس سے حالات مزید کشیدہ ہوں، لیکن حکومت پرامن رہے گی۔
سہیل آفریدی نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ماضی میں ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینے کی سیاست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی دوبارہ مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 15 اکتوبر 2025 کو منصب سنبھالنے کے بعد پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جدید اسلحے و آلات سمیت متعلقہ اداروں کے انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کو صوبے میں ضم کیا گیا، تاہم ان کا مکمل مالی انضمام اب تک نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے وہ مالی حقوق بھی ادا نہیں کیے گئے جو انضمام کے وقت طے ہوئے تھے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 2024 سے اب تک وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور فوجی کارروائیوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے واجب الادا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے گھر، کاروبار اور عبادت گاہیں تباہ ہوئیں، مگر کئی خاندان آج بھی اپنے معاوضوں کے منتظر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بکا خیل کیمپ میں شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے ماہانہ 37 سے 38 کروڑ روپے فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم یہ رقم بھی وعدے کے مطابق فراہم نہیں کی جا رہی۔ سہیل آفریدی کے مطابق صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بے گھر افراد کے لیے اب تک 21 ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ بھی صوبائی حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا کا این ایف سی شیئر بڑھایا جائے اور صوبے کے واجبات ادا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام اور سکیورٹی اہلکاروں نے بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے مسائل حل کرنا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں اور انہیں ہمیشہ غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات سے گریز کی تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کیا جائے۔



