ٹرمپ کی ‘ڈومور’ پالیسی کا عبرتناک انجام: امریکہ متحدہ عرب امارت کے کٹہرے میں آگیا

تحریر:معظم فخر

​مشرق وسطیٰ کی تپتی ریت پر دہائیوں سے لکھی امریکی بالادستی کی داستان اب مٹنے کو ہے، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بار بغاوت کی صدا تہران کے مناروں سے نہیں بلکہ واشنگٹن کے سب سے وفادار اور پرانے یار، دبئی اور ابوظہبی کے ایوانوں سے آئی ہے۔ کبھی وہ دور تھا جب وائٹ ہاؤس سے ایک فون کال آتی تھی اور خلیجی ریاستیں اپنی تجوریاں اور سرحدیں امریکہ کے لیے کھول دیا کرتی تھیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ مہم جوئی نے اس تزویراتی بندھن کی بنیادیں ہی ہلا کر رکھ دی ہیں۔ متحدہ عرب امارات، جو برسوں تک مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا مضبوط ترین دفاعی اور معاشی ستون رہا، آج اسی امریکہ سے270ارب ڈالر کے بھاری بھرکم ہرجانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ مطالبہ محض ایک رقم نہیں، بلکہ اس بیوفائی اور سٹریٹجک دھوکے کا زخم ہے جو امریکہ نے ایران کے ساتھ بلا سوچے سمجھے جنگ چھیڑ کر اپنے ان اتحادیوں کو دیا ہے جو ہمیشہ واشنگٹن کے اشارہ ابرو پر ناچتے رہے۔

​وال اسٹریٹ جرنل کے حالیہ انکشافات نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک ایسا زلزلہ برپا کر دیا ہے جس کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ اماراتی حکام کا غصہ آسمان کو چھو رہا ہے اور ان کا موقف بالکل واضح ہے کہ یہ جنگ امریکہ نے اپنی مرضی اور اسرائیل کی شہ پر شروع کی اس میں امارات کی کوئی رائے شامل تھی نہ ہی مفاد،مگر اجنبیوں کی اس آگ میں گھر امارات کا جل رہا ہے۔

فجیرہ کی آئل فیلڈز پر ایرانی میزائلوں کی برسات نے اس افسانے کو بھی ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے کہ امریکی دفاعی ٹیکنالوجی ناقابل تسخیر ہے۔ 142ارب ڈالر کا وہ امریکی دفاعی کباڑ،جسے ‘تھاڈ’ اور ‘پیٹریٹ’ کے پرکشش ناموں سے بیچا گیا تھا، ایرانی ڈرونز کے سامنے تاش کے پتوں کی طرح بکھر چکا ہے۔ اماراتی حکام اب کھلم کھلا پوچھ رہے ہیں کہ جس تحفظ کے نام پر انہوں نے اپنی دولت واشنگٹن کے دفاعی اداروں پر نچھاور کی، وہ تحفظ اس وقت کہاں تھا جب ایرانی بارود ان کی معیشت کی شہ رگ کو نشانہ بنا رہا تھا؟

​تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے تعلقات کی جڑیں بہت گہری نظر آتی ہیں۔ سرد جنگ کے دنوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک، امارات نے ہمیشہ ایک فرماں بردار اتحادی کا حق ادا کیا۔ چاہے وہ افغانستان کی مہم ہو یا خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے ‘ابراہام ایکارڈز’ کا جرات مندانہ فیصلہ، امارات نے ہر محاذ پر امریکہ کی پیٹھ تھپتھپائی۔ لیکن آج جب امارات کی اپنی معیشت، عالمی سیاحت کا مرکز دبئی اور ہوٹل انڈسٹری ایرانی حملوں کے خوف سے سسک رہی ہے، تو ٹرمپ انتظامیہ صرف ‘ٹروتھ سوشل’ پر بلند و بانگ دعوے کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ڈالرز کی ریل پیل والے اس ملک کو مالیاتی قلت اور ‘ڈالر شارٹیج’ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں اور تیل کی تنصیبات غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں امارات نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب وہ مزید امریکہ کی بھینٹ نہیں چڑھیں گے۔

​امارات کا سب سے زوردار اور کاری وار اب ‘پیٹرو ڈالر’ کی گردن پر ہے، جو براہ راست امریکی معیشت کی موت کا پروانہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اماراتی قیادت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوری طور پر ان کے مالیاتی نقصانات کا ازالہ نہ کیا اور ‘فنانشل بیک سٹاپ’ فراہم نہ کیا، تو وہ تیل کی تجارت کے لیے ڈالر کو خیرباد کہہ کر چینی یوآن، پاؤنڈ، یورو یا کسی بھی مستحکم مقامی کرنسی کا رخ کریں گے۔ یہ وہ ایٹمی آپشن ہے جو امریکی ڈالر کے عالمی راج کو پلک جھپکتے میں قبرستان پہنچا سکتا ہے۔ واشنگٹن کے لیے یہ صورتحال کسی بھیانک خواب سے کم نہیں، کیونکہ اگر خلیج سے ڈالر کا انخلاء شروع ہوا تو امریکہ کے اندر مہنگائی کا وہ طوفان آئے گا جسے سنبھالنا ٹرمپ کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ امریکہ اس وقت ایک ایسے شکاری کی مانند ہے جو اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں بری طرح پھنس گیا ہے؛ وہ اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے مگر شکست کا داغ دھونے کی سکت اس میں باقی نہیں رہی۔

​اس پورے ہنگامے میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر عالمی افق پر سورج کی طرح چمک رہا ہے۔ واشنگٹن اس وقت انتہائی بے بسی کے عالم میں اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور محسن نقوی کی قیادت میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان وہ پل بن چکی ہے جس کے بغیر خطے کا امن ناممکن ہے۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ وہ خود ایران سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے وہ پاکستان کے ذریعے ایران کی منتیں کر رہا ہے کہ کسی طرح جنگ بندی کو مستقل کیا جائے اور مذاکرات کی میز پر واپسی ممکن ہو۔ پاکستان کا ‘فیلڈ مارشل’ اس وقت نہ صرف ملکی سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ عالمی سیاست کے شطرنج پر وہ مہرہ بن چکا ہے جو سپر پاور کی قسمت کا فیصلہ کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی بیک چینل ڈپلومیسی اس وقت ٹرمپ کے لیے وہ آخری لائف لائن ہے جو انہیں ایک ذلت آمیز فوجی ناکامی سے بچا سکتی ہے۔

​دوسری جانب ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آنے والا کھلاڑی نہیں ہے۔ تہران نے نہ صرف میدانِ جنگ میں اپنی طاقت منوائی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی امریکہ کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کا یہ انتباہ کہ وہ آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی سات اہم ترین انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹ سکتا ہے، جدید دنیا کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں۔ اگر یہ کیبلز کٹ گئیں تو مشرق وسطیٰ اور دنیا کا ایک بڑا حصہ ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کا شکار ہو جائے گا، جس سے کھربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایران نے اپنے کارڈز اتنے موثر انداز میں کھیلے ہیں کہ اب بال پوری طرح اس کے کورٹ میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت بے بس ہے، امارات باغی ہو چکا ہے اور یورپی یونین تیل کی سپلائی کے لیے تڑپ رہی ہے۔ آج کا سچ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ اب وہ نہیں رہا جہاں امریکی حکم چلتا تھا؛ اب یہاں کے فیصلے تہران کی مزاحمت، امارات کی معاشی بغاوت اور پاکستان کی تزویراتی مہارت کے مرہونِ منت ہیں۔ امریکہ اگر اب بھی نہ سنبھلا، تو تاریخ اسے ایک ایسی عبرت بنا دے گی جس کا ذکر آنے والی نسلیں ‘ایک تھا سپر پاور’ کے عنوان سے کریں گی۔

مزید خبریں

Back to top button