امریکہ اب اسرائیل کا نہیں رہا:نئی نسل باغی ہوگئی!

نہال معظم:
امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات طویل عرصے سے عالمی سیاست کے مضبوط ترین اسٹریٹجک بندھنوں میں شمار ہوتے رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس رشتے کے گرد موجود بیانیہ واضح طور پر بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔ خاص طور پر بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اختیار کی جانے والی پالیسیوں اور غزہ میں جاری جنگ نے امریکی معاشرے کے بعض طبقات میں ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جو ماضی میں شاذ و نادر ہی سنائی دیتے تھے۔ یہ سوالات اب محض چند حلقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ میڈیا، جامعات اور سیاسی مباحث کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
یہ تبدیلی یکدم پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت دہائیوں تک دو جماعتی اتفاق رائے کا حصہ رہی، جہاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں اسے اپنی خارجہ پالیسی کا لازمی ستون سمجھتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ اس اتفاق میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں۔ براک اوباما کے دور میں ایران معاہدے پر اختلافات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں کھچاؤ پیدا کیا، جبکہ بعد ازاں جو بائیڈن کے دور میں غزہ کی صورتحال نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا۔ اس کے باوجود، ریاستی سطح پر عسکری، سفارتی اور انٹیلیجنس تعاون اب بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے، جو اس تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
اصل تبدیلی زیادہ تر عوامی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے۔ امریکی جامعات، سول سوسائٹی اور خاص طور پر نوجوان نسل میں اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور طاقت کے استعمال جیسے موضوعات اب زیادہ شدت سے زیر بحث آ رہے ہیں۔ نئی نسل کے لیے خارجہ پالیسی محض اسٹریٹجک مفادات کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اخلاقی سوالات بھی اسی قدر اہم ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ میں ہونے والے واقعات کو وہ ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس تبدیلی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہے، اور نوجوان براہ راست تصاویر، ویڈیوز اور مختلف آراء تک پہنچ رکھتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود مواد اکثر انتخابی اور بعض اوقات یک طرفہ ہوتا ہے، جو رائے سازی کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں بھی ہو سکتی۔
یہ بھی ضروری ہے کہ اس بدلتے ہوئے رجحان کو مکمل اتفاق رائے نہ سمجھا جائے۔ امریکہ ایک متنوع اور منقسم معاشرہ ہے، جہاں مختلف طبقات کے خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ جہاں ایک طرف اسرائیل پر تنقید بڑھ رہی ہے، وہیں دوسری جانب اس کے حق میں مضبوط سیاسی اور عوامی حمایت بھی موجود ہے۔ کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کے اندر ایسے گروہ اب بھی موجود ہیں جو اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے لیے ایک اہم اتحادی سمجھتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کوئی بنیادی تبدیلی آنے والی ہے۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس تعلق کی نوعیت میں بتدریج تبدیلی آ سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں امریکی حمایت زیادہ مشروط ہو جائے اور انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی توازن جیسے عوامل پالیسی سازی میں پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جائیں۔
یوں موجودہ صورتحال کو کسی حتمی تبدیلی کے بجائے ایک ارتقائی مرحلے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ایک ایسا مرحلہ جہاں ایک دیرینہ اتحاد برقرار تو ہے، مگر اس کے جواز، حدود اور عوامی تائید کے پیمانے مسلسل بدل رہے ہیں۔ یہی تبدیلی مستقبل کی عالمی سیاست کے خدوخال کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جہاں محض طاقت نہیں بلکہ اخلاقی جواز بھی پالیسیوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔



