نیلے پانیوں میں نئی ڈیٹرنس: برلن کا بھارت کو تلوار اور پاکستان کو ڈھال کا تحفہ

نہال معظم
جنوبی ایشیا کے پانیوں میں ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی پروان چڑھ رہی ہے، جو خطے کے دفاعی توازن کو نئی سمت دینے والی ہے۔جرمنی اور بھارت کے درمیان چھ جدید ترین پی-75 آئی کلاس آبدوزوں کا پانچ ارب ڈالر سے زائد مالیت کا مجوزہ معاہدہ محض ایک تجارتی سودا نہیں بلکہ ایک ایسا سٹریٹجک موڑ ہے جس کے اثرات نئی دہلی سے برلن اور اسلام آباد سے بیجنگ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی جڑیں دو دہائیاں پرانی ہیں جب بھارت نے اپنی "پروجیکٹ 75” سیریز کے تحت سمندری بیڑے کو جدید بنانے کا خواب دیکھا تھا، لیکن بیوروکریٹک رکاوٹوں اور تکنیکی پیچیدگیوں نے اسے برسوں التوا میں رکھا۔ اب جبکہ جرمنی نے اپنی روایتی دفاعی برآمدی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کو اپنی حساس ترین "ایئر انڈیپینڈنٹ پروپلشن” یعنی اے آئی پی ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تو یہ واضح ہو گیا ہے کہ عالمی سیاست کے مہرے تیزی سے ہل رہے ہیں۔ جرمنی جو کبھی دفاعی سودوں میں اخلاقی اور قانونی قیود کا سخت پابند تھا، اب چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے بھارت کو ایک ناگزیر اتحادی کے طور پر دیکھ رہا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوتی ہیں۔
پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ براہ راست بحری توازن کو بھارت کے حق میں جھکانے کی کوشش ہے۔ ان جرمن آبدوزوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی اے آئی پی ٹیکنالوجی ہے جو انہیں کئی ہفتوں تک پانی کی سطح پر آئے بغیر گہرائی میں رہنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہاں یہ امر اہم ہے کہ پاکستان اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہے؛ اسلام آباد پہلے ہی چین کے ساتھ آٹھ "ہنگور کلاس” آبدوزوں کا معاہدہ کر چکا ہے جو اسی جدید اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور پاک بحریہ کی خاموش ضرب لگانے کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھا چکی ہیں۔ اصل چیلنج ٹیکنالوجی کی اس برابری سے آگے کا ہے، کیونکہ بھارت کے پاس تین ایٹمی قوت سے چلنے والی (Nuclear-Powered) آبدوزیں بھی موجود ہیں جو پاکستان کے پاس نہیں ہیں۔ ایٹمی آبدوزوں کی لامحدود رینج اور رفتار روایتی آبدوزوں کے مقابلے میں ایک بڑا سٹریٹجک فرق پیدا کرتی ہے، جسے کم کرنے کے لیے پاکستان کو غیر روایتی دفاعی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے منظر نامے میں جرمنی ایک دوہرا سٹریٹجک کھیل کھیل رہا ہے جو عالمی دفاعی منڈی کے بے رحم اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف برلن بھارت کو جدید ترین آبدوزیں دے کر اس کی بحری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے، تو دوسری طرف وہ پاکستان کو بھارت کے خطرناک ترین "براہموس” میزائل کا توڑ یعنی "انٹرسپٹر سسٹم” بھی فروخت کر رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں کسی ایک پلڑے کو اتنا بھاری نہیں ہونے دینا چاہتیں کہ خطے کا توازن مکمل تباہ ہو جائے۔ جرمنی جہاں بھارت سے پانچ ارب ڈالر سمیٹ رہا ہے، وہیں پاکستان کو دفاعی ڈھال فراہم کر کے اپنی تجارتی اور سفارتی متوازن پالیسی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کہ وہ براہموس جیسے سپرسونک میزائل کا دفاع حاصل کر کے بھارتی جارحیت کے غبارے سے ہوا نکالنے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
خطے کے وسیع تر تناظر میں یہ ڈیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت اب روس پر اپنا انحصار کم کر کے مغربی ٹیکنالوجی کی طرف مڑ رہا ہے تاکہ وہ امریکہ اور یورپ کا "نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” بن کر ابھر سکے۔ سی پیک اور گوادر بندرگاہ کی حفاظت کے حوالے سے پاکستان کو اب زیادہ چوکس ہونا پڑے گا کیونکہ بھارتی بحریہ کا اصل ہدف ان تجارتی راستوں پر اپنی بالادستی قائم کرنا ہے جہاں سے پاکستان کی معیشت کا مستقبل وابستہ ہے۔ پاکستان کے لیے اب محض دفاعی ڈھال یا انٹرسپٹرز پر اکتفا کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے اپنی "سیکنڈ سٹرائیک” صلاحیت کو سمندر کی گہرائیوں میں مزید مستحکم کرنا پڑے گا۔ جرمن بھارتی دفاعی اتحاد بحر ہند کو پرامن پانیوں کے بجائے ایک نئے سٹریٹجک تصادم کا مرکز بنا رہا ہے، جہاں پاکستان کو اپنی بقا اور خود مختاری کے لیے بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں اور ٹیکنالوجی کی منڈی میں نہایت مہارت سے اپنا راستہ بنانا ہوگا۔



