جوہری ڈیٹرنس ایک اسٹرٹیجک فریب: طاقت یا ریاست کی سب سے بڑی کمزوری؟

نہال معظم
ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول کسی بھی ملک کے لیے دفاعی ڈھال سے زیادہ ایک ایسا اسٹریٹجک امتحان بن چکا ہے جہاں ذرا سی لغزش ریاست کو عالمی تنہائی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں یہ سوال اب محض تکنیکی مہارت یا یورینیم کی افزودگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ براہِ راست ریاست کی سیاسی بصیرت اور اس کے وجودی مقاصد سے جڑ گیا ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا ایٹمی طاقت واقعی قومی سلامتی کی ضامن ہے، یا پھر یہ محض ان سیاسی نظاموں کی آخری پناہ گاہ ہے جو اپنے عوام اور عالمی برادری میں اپنا جواز کھو چکے ہیں؟ اس بحث کو سمجھنے کے لیے ہمیں ان تجربات پر نظر ڈالنی ہوگی جہاں ایٹمی خواب تعبیر بننے سے پہلے ہی ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے۔
عالمی جوہری نظام کا ڈھانچہ ایک ایسی منافقت پر مبنی ہے جہاں طاقتور ممالک نے اپنے لیے تو مہلک ہتھیاروں کو جائز رکھا ہے، مگر دوسروں کے لیے رکاوٹوں کے جال بن دیے ہیں۔ اس کٹھن راستے پر پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک نے تو اپنی بقا کی خاطر قدم جما لیے، لیکن صدام حسین کے دور کا عراق ایک عبرت ناک مثال بن کر ابھرا۔ وہاں جوہری پروگرام ریاست کی ضرورت کے بجائے شخصی اقتدار کی نمائش کا ذریعہ بنا، جس کا نتیجہ معاشی تباہی اور بالآخر ریاست کے بکھرنے کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح لیبیا کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ ایٹمی پروگرام سے دستبرداری ہو یا اس کا حصول، اگر ریاست کی بنیادیں عوامی اعتماد اور مضبوط اداروں پر قائم نہ ہوں تو کوئی بھی ہتھیار یا معاہدہ اسے بچا نہیں سکتا۔
آج کے دور میں ایران اس حوالے سے سب سے پیچیدہ نمونہ ہے، جہاں جوہری فائل محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ خطے میں اثر و رسوخ کی ایک وسیع جنگ بن چکی ہے۔ جب ایٹمی پروگرام کو علاقائی مداخلتوں اور جارحانہ پالیسیوں کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، تو وہ دفاعی اثاثہ رہنے کے بجائے ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جس کی قیمت عام شہری کو عالمی پابندیوں اور معاشی بدحالی کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ شمالی کوریا کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جہاں حکمران ٹولہ تو ایٹمی بم کے پیچھے چھپ کر محفوظ ہو گیا، لیکن وہاں کا معاشرہ غربت اور خوف کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ یہ ماڈل کسی بھی طور ایک کامیاب اور مستحکم ریاست کی علامت نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اس کے برعکس، خلیجی ممالک کی حالیہ حکمت عملی ایک نئی اور عاقلانہ راہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان ریاستوں نے ایٹمی دوڑ میں اندھا دھند کودنے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں معیشت، جدید تعلیم، اور ٹیکنالوجی کے انقلاب پر صرف کی ہیں۔ انہوں نے یہ حقیقت بھانپ لی ہے کہ اصل سپر پاور وہ نہیں جس کے پاس ایٹم بم ہے، بلکہ وہ ہے جس کے پاس عالمی معیار کی بندرگاہیں، مضبوط مالیاتی ادارے اور تحقیق و ترقی کے مراکز موجود ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹرز سے زیادہ اہم وہ جامعات اور تجارتی مراکز ہیں جو قوموں کو مستقبل کی صف میں کھڑا کرتے ہیں۔ ڈیٹرنس یا دشمن کو باز رکھنے کی قوت صرف بارود سے نہیں، بلکہ معاشی خود کفالت اور فعال سفارت کاری سے حاصل ہوتی ہے۔
حتمی تجزیہ یہی ہے کہ ایٹمی طاقت کسی سیاسی خلا یا سماجی پسماندگی کا حل نہیں ہو سکتی۔ یہ کسی کمزور نظام کی عمر تو چند سال بڑھا سکتی ہے، مگر قوموں کو استحکام اور خوشحالی فراہم کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ عالمی طاقتیں بھی اپنی بساط بچھاتے وقت ہمیشہ یہ کوشش کرتی ہیں کہ جوہری پھیلاؤ ان کے مفادات کے لیے خطرہ نہ بنے، اور جو ریاست اس نزاکت کو نہیں سمجھتی وہ اسٹریٹجک بوجھ تلے دب کر رہ جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں کہ ایٹمی کلب کا رکن کون بنتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاستوں کے پاس وہ سیاسی بلوغت موجود ہے جو طاقت کے ان آلات کو سنبھال سکے۔ ایٹمی جنون جب عقل پر غالب آ جائے تو وہ تحفظ نہیں بلکہ خود کشی کا راستہ بن جاتا ہے۔



