گلگت بلتستان انتخابات: پیپلز پارٹی کی نون لیگ پر الزامات کی بارش

گلگت/اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات اور مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ گلگت اور وہاں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے پروگرام کو ‘پری پول ریگنگ’ (انتخابات سے پہلے دھاندلی) قرار دے دیا ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان نے وزیر اعظم کو مشروط طور پر این او سی جاری کیا ہے، جس کے تحت وہ کسی سیاسی سرگرمی یا ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکتے، تاہم پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے اس دورے کو انتخابی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم اپنا دورہ انتخابات کے بعد تک مؤخر کریں۔
دوسری جانب، عید کے بعد 28ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ پیش کیے جانے کی خبروں نے بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ سینئر صحافی سلمان غنی کی رپورٹ کے مطابق، اس ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ (NFC Award) میں صوبوں کا حصہ کم کرنے اور 18ویں ترمیم میں ردو بدل کی تجاویز شامل ہیں، جس پر پیپلز پارٹی نے سخت ردعمل کا اشارہ دیا ہے۔ ب بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ 18ویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ دینے اور پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں فوری بلدیاتی انتخابات کروانے کی تجویز پر بھی مسلم لیگ (ن) کو تحفظات ہیں، کیونکہ پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ وہ اس وقت انتخابی میدان میں اترنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ عید کے بعد ان دونوں جماعتوں کے درمیان یہ سیاسی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل اور 28ویں آئینی ترمیم کے پسِ پردہ حقائق جاننے کے لیے امداد سومرو کا یہ تجزیاتی وی لاگ ملاحظہ کریں۔




