امریکہ، ایران بریک تھرو : 48 گھنٹوں میں بڑے معاہدے متوقع

​بیجنگ/اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی مفاہمت (MoU) پر دستخط متوقع ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور سعودی عرب کی درخواست پر ایران کے خلاف ‘پروجیکٹ فریڈم’ کے تحت ہونے والی فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اس بریک تھرو کے بعد ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی ختم کیے جانے کا امکان ہے، جو فروری سے عالمی تجارت کے لیے بند ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگز کے بیانات بھی اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ امریکہ اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو موقع دینا چاہتا ہے۔

​اس مجوزہ 14 نکاتی معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا جائے گا اور اگلے 30 دنوں کے اندر اسلام آباد یا جنیوا میں جامع مذاکرات ہوں گے۔ امریکہ کا واحد بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کا واضح اعلان کرے، جس کے بدلے میں ایران پر عائد عالمی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اور اس کے منجمد اربوں ڈالرز بھی ریلیز کیے جائیں گے۔ ایک اہم تجویز یہ بھی زیرِ غور ہے کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم (Uranium) پاکستان یا روس منتقل کر دے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اس وقت بیجنگ میں موجود ہیں جہاں چینی حکام بھی ابنائے ہرمز کو فوری کھولنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی اس ‘بصیرت افروز’ فیصلے کی تعریف کی ہے جس سے خطے میں امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

​امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اس ممکنہ معاہدے اور پاکستان کے کلیدی کردار کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button