خان، نثار، بندیال گٹھ جوڑ بے نقاب: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ کیس نے سب پول کھول دئیے

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، عمر عطا بندیال اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی نئی تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے مہنگے ترین مقام ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ میں عمران خان کے لگژری پینٹ ہاؤس سے متعلق ہوش ربا انکشافات ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 15 کروڑ روپے مالیت کا یہ اپارٹمنٹ عمران خان نے محض ایک کروڑ روپے میں حاصل کیا تھا۔ اس حوالے سے رسیدیں اور ثبوت سپریم کورٹ میں حنیف عباسی کے کیس کے دوران پیش کیے گئے تھے، لیکن اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال نے ان ناقابلِ تردید شواہد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر عمران خان کو ‘صادق اور امین’ قرار دیا۔
وی لاگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں وزیراعظم ہاؤس میں طیبہ گل نامی خاتون کو 45 دن تک حبسِ بیجا میں رکھا گیا اور ان کی ویڈیوز کے ذریعے اس وقت کے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بلیک میل کر کے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس دوران عدلیہ کی جانب سے عمران خان کو غیر معمولی ریلیف فراہم کیا گیا، جس کی مثال ‘گڈ ٹو سی یو’ جیسے ریمارکس اور گرفتاری کے باوجود پروٹوکول کی فراہمی سے ملتی ہے۔ رپورٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا 15 کروڑ کی چیز کسی کو ایک کروڑ میں بغیر کسی خاص مقصد یا ‘مک مکا’ کے مل سکتی ہے؟ علیمہ خان نے بھی انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسی پراجیکٹ میں اپارٹمنٹ بک کروایا تھا لیکن بعد میں بکنگ کینسل ہوگئی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عدلیہ اور سیاستدانوں کے اس مبینہ گٹھ جوڑ اور ‘عمران پراجیکٹ’ کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے شکیل ملک کا یہ خصوصی وی لاگ ملاحظہ کریں۔




