ٹیکنالوجیکل مالِ غنیمت: ایران کی امریکی ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ سے دنیا حیران پریشان

نہال معظم:

​قدیم زمانے کی جنگوں میں جب ایک لشکر دوسرے پر فتح پاتا تھا، تو میدانِ کارزار میں بکھرا ہوا "مالِ غنیمت” محض سونے چاندی، گھوڑوں اور تلواروں تک محدود ہوتا تھا۔ فاتح اقوام ان ہتھیاروں کو اپنی طاقت کی علامت سمجھ کر فخر سے لہراتی تھیں۔ لیکن آج کی جدید اور ڈیجیٹل دنیا میں مالِ غنیمت کی تعریف بدل چکی ہے۔ اب یہ سونا چاندی نہیں بلکہ وہ "سلیکون چپس” اور "سافٹ ویئر کوڈز” ہیں جو کسی میزائل یا ڈرون کے اندر چھپے ہوتے ہیں۔عرب میڈیا کی حالیہ رپورٹ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ایران نے حالیہ کشیدگی کے بعد جدید ترین امریکی ہتھیاروں کی صورت میں ایک ایسا ہی "ٹیکنالوجیکل مالِ غنیمت” حاصل کر لیا ہے جس نے عالمی دفاعی ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ یہ محض چند ٹن وزنی لوہا نہیں بلکہ مغرب کی اس فوجی برتری کا وہ خفیہ نسخہ ہے جسے امریکہ نے دہائیوں کی تحقیق اور کھربوں ڈالرز کے عوض حاصل کیا تھا۔ ایران کے پاس ان ہتھیاروں کا سلامت حالت میں پہنچ جانا ایک ایسی سٹریٹجک تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے ترازو کو یکسر پلٹ کر رکھ دے گی۔

​اس پورے معاملے کی سب سے سنسنی خیز کڑی وہ "ریورس انجینئرنگ” ہے جس میں ایران پہلے ہی مہارت کا درجہ رکھتا ہے۔ جب کوئی پیچیدہ ٹیکنالوجی دشمن کے ہاتھ سلامت لگتی ہے، تو وہ اس کے ایک ایک پرزے کو کھول کر اس کی ساخت، مینوفیکچرنگ اور سب سے بڑھ کر اس کے گائیڈنس سسٹم کا مطالعہ کرتا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے 15 کے قریب جدید امریکی میزائل اور ایم کیو-9 ریپر جیسے مہلک ڈرونز قبضے میں لیے ہیں، پینٹاگون کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہے۔ ان ہتھیاروں میں وہ بنکر بسٹر بم بھی شامل ہیں جو امریکہ نے خاص طور پر ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کو ملیامیٹ کرنے کے لیے بنائے تھے۔ اب اگر ایران نے انہی بموں کو ڈی کوڈ کر لیا تو وہ نہ صرف اپنی دفاعی پناہ گاہوں کو مزید ناقابلِ تسخیر بنا لے گا بلکہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی میں بھی وہی درستی اور شدت پیدا کر لے گا جو اب تک صرف سپر پاورز کا خاصہ سمجھی جاتی تھی۔

​یہ ریورس انجینئرنگ کا عمل بظاہر تکنیکی لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی جیو پولیٹکس کہیں زیادہ گہری ہے۔ رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران ان پیچیدہ امریکی نظاموں کو سمجھنے کے لیے روس اور چین جیسے اپنے دیرینہ اتحادیوں سے مدد لے سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی عالمی مثلث بنتی نظر آ رہی ہے جہاں امریکی ٹیکنالوجی کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے مشرق اور مغرب کے ماہرین یکجا ہو سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ سے اپنے گرے ہوئے طیاروں اور ہتھیاروں کو تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے تاکہ وہ دشمن کے ہاتھ نہ لگیں، لیکن ایران نے جس مہارت سے ان میزائلوں کو "سافٹ لینڈنگ” یا سلامت حالت میں زمین پر اتارا ہے، اس نے امریکی دفاعی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ جب ایران کے اپنے تیار کردہ "شاہد” ڈرونز دنیا کے مختلف محاذوں پر اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں، تو تصور کیجیے کہ اگر اسے امریکی سینسرز اور ریڈار سے بچنے والی ٹیکنالوجی کا راز مل گیا تو اس کی فوجی طاقت کس بلندی پر پہنچ جائے گی۔

​یہ صورتحال صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا خطرہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ ایران اپنی دفاعی صنعت کو برآمدی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں امریکی ٹیکنالوجی کی "سستی نقول” ان تمام مزاحمتی گروہوں اور ممالک کے پاس ہوں گی جو امریکہ کے عالمی اثر و رسوخ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت پر مہر ثبت کرتا ہے کہ جدید جنگیں اب صرف گولیوں اور بارود سے نہیں بلکہ ذہانت اور ٹیکنالوجی کی چوری سے جیتی جاتی ہیں۔ ایران کا ان ہتھیاروں کی نمائش کرنا ایک نفسیاتی ضرب بھی ہے، جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ مغرب کی ٹیکنالوجیکل برتری کا طلسم اب ٹوٹ چکا ہے۔ آنے والے وقت میں جب ایران اپنے نئے دفاعی نظاموں کی رونمائی کرے گا، تو ان میں امریکی ٹیکنالوجی کی جھلک اس بات کی گواہی دے گی کہ جدید زمانے کا مالِ غنیمت دنیا کے نقشے بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button