عراقی صحرا تلے اسرائیل کی خفیہ تعمیرات،مغربی میڈیا کے ہولناک انکشاف

تحریر:نہال معظم

عراق کے بے رحم صحرا کی خاموش ریت کے نیچے اگر واقعی ایک ایسی خفیہ دنیا سانس لے رہی ہے جہاں اسرائیل نے فولاد، بارود اور جدید جنگی ٹیکنالوجی سے لیس زیرِ زمین “موت کا شہر” تعمیر کر لیا ہے، تو یہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مغربی میڈیا کے لرزہ خیز انکشافات نے مشرقِ وسطیٰ کو خوف، شکوک اور تباہی کے ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں جنگ اب فضاؤں میں نہیں بلکہ زمین کے سینے کو چیر کر لڑی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عراقی ریگستان کی خاموش تہوں کے نیچے ایسے خفیہ عسکری مراکز قائم کیے گئے ہیں جو نہ صرف جدید سیٹلائٹ نظام کی نظروں سے اوجھل ہیں بلکہ ایٹمی حملوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔خفیہ تنصیبات عراق کے دور افتادہ صحرائی علاقوں (غالباً مغربی حصے یا الانبار ریجن) میں ریت کے نیچے چھپائی گئی ہیں۔

یہ پورا بیانیہ اگرچہ ابھی تک مکمل اور آزاد تصدیق سے محروم ہے، لیکن اس نے خطے میں پہلے سے موجود بے اعتمادی اور سکیورٹی خدشات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں خفیہ جنگیں، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور غیر مرئی عسکری سرگرمیاں ہمیشہ سے طاقت کی سیاست کا حصہ رہی ہیں۔ 9/11 کے بعد امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آنے والے “بلیک سائٹس” اس کی ایک نمایاں مثال ہیں، جن کے بارے میں رپورٹس سامنے آئیں کہ مختلف ممالک میں خفیہ حراستی مراکز اور تفتیشی یونٹس قائم کیے گئے۔ عراق اور افغانستان کے تنازعات کے دوران ابو غریب اور بگرام جیسے مقامات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق اور خفیہ جنگی حکمتِ عملی پر سنگین سوالات اٹھائے۔

اسی طرح اسرائیل کے حوالے سے بھی مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو فعال رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی عراق کے کردستان خطے سے متعلق بھی ماضی میں ایسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ وہاں غیر رسمی نگرانی یا انٹیلی جنس سرگرمیوں کے نیٹ ورکس موجود ہیں، جن کا مقصد علاقائی مخالفین پر نظر رکھنا بتایا جاتا ہے۔ تاہم یہ تمام دعوے زیادہ تر سیاسی بیانیوں، انٹیلی جنس تجزیوں اور غیر مصدقہ رپورٹس پر مبنی رہے ہیں، جن کی مکمل آزاد تصدیق موجود نہیں۔

زیرِ زمین عسکری تنصیبات کی تاریخ بھی نئی نہیں۔ سرد جنگ کے دوران بڑی طاقتوں نے ایٹمی حملوں سے بچاؤ کے لیے وسیع زیرِ زمین بنکرز، کمانڈ سینٹرز اور میزائل بیسز تعمیر کیے۔ اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلیئر سائٹ جیسے حساس منصوبے بھی طویل عرصے تک محدود معلومات اور قیاس آرائیوں کا مرکز رہے۔ اسی تناظر میں اگر جدید دور میں زیرِ زمین انفراسٹرکچر کی بات کی جائے تو یہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ممکن ضرور ہے، مگر اس کے لیے غیر معمولی وسائل، مہارت اور طویل المدتی اسٹریٹجک منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی خودمختار ریاست کی اجازت کے بغیر اس کی سرزمین میں خفیہ عسکری یا انٹیلی جنس ڈھانچے قائم کرنا سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت ہر ملک کو اپنی سرزمین پر مکمل خودمختاری حاصل ہے، اور ایسی کسی بھی غیر قانونی موجودگی کو جارحیت کے زمرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم عملی سیاست میں طاقتور ممالک اکثر “قومی سلامتی” اور “دفاعی ضرورت” جیسے دلائل کے ذریعے اپنے اقدامات کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر اس مبینہ صورتحال میں کسی تیسرے فریق کی شمولیت یا خاموش رضامندی شامل ہو تو یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اس صورت میں ذمہ داری صرف ایک ریاست تک محدود نہیں رہتی بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان پھیل جاتی ہے۔ یہی پیچیدگی عالمی قانون کے نفاذ کو کمزور کرتی ہے اور اکثر ایسے تنازعات کو سیاسی دباؤ اور سفارتی کشمکش کے دائرے میں رکھ دیتی ہے۔

اصل خطرہ صرف کسی ایک مبینہ تنصیب میں نہیں بلکہ اس بڑھتے ہوئے رجحان میں ہے جس کے تحت جنگیں روایتی میدانوں سے نکل کر زمین کے نیچے، خفیہ نیٹ ورکس اور تکنیکی انفراسٹرکچر میں منتقل ہو رہی ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف اعتماد کے بحران کو جنم دیتا ہے بلکہ خطے کے پہلے سے غیر مستحکم توازن کو مزید نازک بنا دیتا ہے۔

اگرچہ اس پورے معاملے کی مکمل سچائی ابھی واضح نہیں، لیکن اس کے اثرات پہلے ہی سیاسی اور اسٹریٹجک سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ عراق جیسے ملک میں، جہاں داخلی تقسیم، علاقائی اثرات اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت پہلے سے موجود ہے، وہاں اس نوعیت کی رپورٹس حالات کو مزید حساس اور غیر یقینی بنا دیتی ہیں۔

مختصر یہ کہ یہ کہانی صرف ایک مبینہ تعمیراتی منصوبے کی نہیں بلکہ اس عالمی حقیقت کی علامت ہے جہاں طاقت، ٹیکنالوجی اور خفیہ حکمتِ عملی مل کر ایک ایسا نیا جغرافیہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں جنگ اور امن کے درمیان لکیر پہلے سے کہیں زیادہ دھندلی ہو چکی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button