عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی: بڑا سکینڈل بے نقاب

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے لیے عدالتی محاذ سے بری خبر سامنے آئی ہے جہاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا معطلی کی متفرق درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نپٹا دی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اب مرکزی اپیلوں پر سماعت 7 مئی کو ہوگی، جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹھوس شواہد کی موجودگی میں یہ سزا عمران خان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ دوسری جانب ممنوعہ فنڈنگ کیس میں چالان پیش ہونے کے بعد تحریک انصاف کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کی منسوخی کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے، جو پارٹی کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی خوفناک ثابت ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو (گرینڈ حیات ہوٹل) سکینڈل پر دبنگ موقف اختیار کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور ہر قسم کی قانونی جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ اس منصوبے میں ہوٹل کی جگہ ریزیڈینشل اپارٹمنٹس بنا کر اربوں روپے کمائے گئے اور سی ڈی اے کو واجب الادا ساڑھے سترہ ارب روپے ادا نہیں کیے گئے۔ انتہائی سنسنی خیز انکشاف یہ ہے کہ عمران خان سمیت کئی بااثر بیوروکریٹس، ججوں اور سیاستدانوں نے یہاں بھاری رعایت پر اپارٹمنٹس حاصل کیے؛ ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جس اپارٹمنٹ کی قیمت کروڑوں میں تھی، وہ عمران خان کو محض ایک کروڑ روپے میں دیا گیا۔ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے سامنے اپنا سخت موقف رکھیں گے، تاہم سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اس غیر قانونی تعمیرات کے دوران سی ڈی اے خاموش کیوں رہا۔
صحافی شکیل ملک کے اس وی لاگ میں عمران خان کی جیل میں صحت، ان کی آنکھ کے حوالے سے متضاد رپورٹس اور بااثر شخصیات کے مفادات کے بارے میں مزید سنسنی خیز حقائق جاننے کے لیے ویڈیو لنک پر کلک کریں۔




