پاکستان میں مارشل لاء کی آہٹ؟ نظام کی تبدیلی اور فیلڈ مارشل کو براہ راست حکمرانی کے مشورے

​اسلام آباد: خصوصی تجزیہ (جانو ڈاٹ پی کے)​اسلام آباد کے مقتدر حلقوں میں ان دنوں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا موجودہ ہائبرڈ نظام اپنی مدت پوری کر پائے گا یا پھر ملک ایک بار پھر براہ راست فوجی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وفاقی دارالحکومت میں بااثر شخصیات اور فیصلہ سازوں کے درمیان یہ سرگوشیاں عام ہیں کہ شہباز شریف کی حکومت وہ نتائج فراہم نہیں کر پا رہی جس کی توقع کی جا رہی تھی، جس کے باعث فیلڈ مارشل عاصم منیر کو براہ راست باگ ڈور سنبھالنے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔

​معروف کالم نگار سہیل وڑائچ نے بھی اپنے حالیہ مضمون میں ‘آئین کے برقعے’ کا تذکرہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ لبا دا اتارا گیا تو ریاست کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں لگنے والے چاروں مارشل لاء ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں، اس لیے مصلحت اسی میں ہے کہ موجودہ نظام کو آئینی لبادے میں ہی چلنے دیا جائے۔ عالمی سطح پر بھی مارشل لاء کو قبول نہیں کیا جاتا اور یورپی یونین جیسی تنظیمیں فوری طور پر ایسے ملک سے تعلقات منقطع کر لیتی ہیں۔

​پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے اور بھارت کے ساتھ مئی کی مختصر جنگ میں کامیابی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا قد عالمی سطح پر کافی بڑھ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان کی مسلسل تعریفوں نے بھی ان حلقوں کو تقویت دی ہے جو سمجھتے ہیں کہ ملک کو ایک ‘ونڈر بوائے’ یا طاقتور صدر کی ضرورت ہے۔ تاہم، سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر تمام سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگایا گیا تو عمران خان، نواز شریف اور آصف زرداری ایک بار پھر ایک ہی کنٹینر پر جمع ہو سکتے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کے لیے بڑی مشکل پیدا کر دے گا۔

​تجزیہ کار: امداد سومرو

وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button