ٹرمپ کے طیارے پر مبینہ حملے کی سازش، ترک حکام کا اسرائیلی رپورٹ پر شکوک کا اظہار

استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے پر مبینہ قاتلانہ حملے سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس رپورٹ من گھڑت ہو سکتی ہے اور اسے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترک حکام کا خیال ہے کہ گزشتہ ماہ انقرہ میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کے دوران ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایرانی سازش سے متعلق اسرائیلی خفیہ اطلاعات کے درست ہونے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ اسرائیلی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئیں جب امریکی صدر ایران کے ساتھ ایک معاہدے کے لیے کوششیں کر رہے تھے، جس کا مقصد حالیہ جنگ کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تھا۔

ترک حکام کے مطابق ان اطلاعات کا ایک ممکنہ مقصد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو امریکی صدر کے محافظ کے طور پر پیش کرنا، ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو ناکام بنانا اور ٹرمپ و ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔

معاملے سے واقف ایک ترک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ انقرہ کے لیے ابتدا ہی سے یہ واضح تھا کہ مذکورہ رپورٹ کے درست ہونے کے امکانات نہیں تھے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی اطلاعات ترکیہ کو ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کی جانب دھکیل سکتی تھیں۔

ترک حکام کے شبہات نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران انٹیلی جنس معلومات کے ممکنہ سیاسی استعمال پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے ترک حکام کے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مزید خبریں

Back to top button