فیض حمید پر نئی ہولناک مصیبت ٹوٹ پڑی، نو مئی سازش کی فائل دوبارہ اوپن ؛پروجیکٹ عمران کے مہرے گمنام اندھیروں میں غائب!

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)عشقِ عمران کی آڑ میں اقتدار کے خواب دیکھنے والوں کے گرد شکنجہ سخت، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے کورٹ مارشل کے بعد اب ان پر نو مئی سازش کے تحت نئی اور ہولناک مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ ذرائع کے مطابق دسمبر 2025 میں سزا پانے کے باوجود فیض حمید کو تاحال کسی سول جیل میں منتقل نہیں کیا گیا، کیونکہ نو مئی کے خونی واقعات اور سیاسی مداخلت کے سنگین الزامات پر ان کے خلاف "سمری آف ایویڈنس” کی فائنل رپورٹ تیار کی جا رہی ہے جس میں اندرونی اور بیرونی کرداروں کے چونکا دینے والے انکشافات متوقع ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی جو کبھی سسٹم کو چیلنج کرتے تھے، اب وفاق کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بجٹ اور فنڈز سرنڈر کر چکے ہیں لیکن آٹھ ماہ سے جاری تمام تر منت سماجت کے باوجود عمران خان سے چند منٹ کی ملاقات کے لیے بھی ترس رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں نے واضح کر دیا ہے کہ جیل مینوئل سے ہٹ کر کسی کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت نہیں ملے گی، چاہے وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو۔ ماضی میں پروجیکٹ عمران کو پروان چڑھانے والے جنرل پاشاہ، جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل قمر جاوید باجوہ جیسے طاقتور مہرے اب گمنامی اور خاموشی کی چادر اوڑھے بیٹھے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ڈالرز کمانے والے یوٹیوبرز قوم کو ڈیل کی جھوٹی کہانیاں بیچ رہے ہیں۔ فیض حمید کے خلاف اس نئی انکوائری سے کئی مزید بڑے سروں کے قلم ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

​اس سنسنی خیز معاملے کے پوشیدہ حقائق پر مبنی سینئر صحافی شکیل ملک کا مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے ویڈیو لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button