نئےاسلامی بلاک کاکمانڈسینٹر کہاں قائم ہو گا،اہم تفصیلات سامنے آگئیں!

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے کا تفصیلی فریم ورک اور جیو پولیٹیکل راز سامنے آ گئے ہیں۔ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے انکشاف کیا ہے کہ معاہدے کا بنیادی مقصد نیٹو کی طرز پر دفاعی ڈیٹرنس قائم کرنا ہے، جہاں کسی ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا، تاہم امداد کی نوعیت (لوجسٹک، انٹیلی جنس یا افواج کی تعیناتی) متاثرہ ملک کی درخواست پر منحصر ہوگی۔
معاہدے کا جوائنٹ کمانڈ سینٹر اور ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ دوسری جانب، 1979 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی قانونی پابندیوں کے باعث مصر فی الوقت اس اتحاد کا رسمی حصہ نہیں بن سکا، جو اسے اسرائیل کے خلاف کسی سیکیورٹی معاہدے میں شامل ہونے سے روکتی ہیں۔ اس اہم پیشرفت کے تمام پہلوؤ ں اور تفصیلی تجزیے کے لیے معظّم فخر کی یہ خصوصی رپورٹ دیکھیں:




