خلاء میں بھی لہلہانے لگے پودے، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر خلابازوں نے روسی سبزیاں اُگا لیں

نیویارک (ویب ڈیسک) زمین سے لاکھوں میل دور خلائی ماحول میں بھی ہریالی نے جگہ بنا لی، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مہم 75 کے دوران خلابازوں نے مختلف پودوں کی نگہداشت شروع کردی ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر مہم 75 کی کمانڈ ناسا کی خلاباز جیسیکا میئر کر رہی ہیں، جنہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خلائی اسٹیشن میں موجود پودوں کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں۔
جیسیکا میئر کے مطابق مہم 75 کے عملے میں ایک دلچسپ اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ کسی نئے خلاباز کا نہیں بلکہ روسی پودوں کا ہے۔ ان کے مطابق عملہ اپنے فارغ وقت میں ان پودوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلائی اسٹیشن پر سرخ روسی کیل، وسابی اور سرسوں کے پودے اُگائے جا رہے ہیں۔ یہ تجربہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ پودے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے محدود اور مصنوعی ماحول میں قدرتی زمینی حالات کے بجائے کس طرح نشوونما پاتے ہیں۔
اس تحقیق کا ایک اہم مقصد یہ بھی جاننا ہے کہ مدار میں طویل عرصے تک ذخیرہ کیے جانے کے دوران بیجوں کی قابلِ کاشت صلاحیت اور ان کی نشوونما پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جیسیکا میئر نے پودوں کی موجودگی کو خلابازوں کے لیے خوشگوار تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلائی اسٹیشن پر ہریالی کا ہونا ’’نیچر تھراپی‘‘ جیسا محسوس ہوتا ہے۔
خلائی تحقیق کے ماہرین کے مطابق خلا میں پودوں کی افزائش مستقبل میں طویل مدتی خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ چاند یا مریخ جیسے دور دراز مشنز میں تازہ خوراک کی پیداوار اور عملے کی ذہنی صحت دونوں کے لیے پودوں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔



