پشاور ہائیکورٹ کاافغانستان کے سابق اہلکاروں، صحافیوں اور وکلا کو گرفتار یا ملک بدر نہ کرنے کا حکم

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان کے سابق دفاعی وسیکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، وکلاء اور اساتذہ سمیت دیگر افغان باشندوں کی 123 رٹ درخواستوں پر عبوری ریلیف دیتے ہوئے انہیں 60 روز تک گرفتار یا ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ اس دوران ان کے وکلا سیف اللہ محب کاکاخیل، ملک شہباز، پروفیسر نذیر احمد، قیصر علی شاہ، رئیس محمد، عنایت اللہ، فہیم مروت، سہیل خان، عارف فردوس اور دیگر وکلاء جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناءاللہ بھی پیش ہوئے۔

درخواست گزاروں کے مطابق افغانستان میں انہیں سابقہ پیشے، سیاسی وابستگی یا صنفی بنیادوں پر ان کی جانوں کو خطرات لاحق تھے جس کے باعث وہ پاکستان منتقل ہوئے۔ بیشتر درخواست گزار یو این ایچ سی آر کے ساتھ بطور پناہ گزین رجسٹرڈ ہیں۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے کسی بھی ایسے شخص کو اس ملک واپس بھیجنے سے روکتا ہے جہاں اسکی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو، متعدد درخواست گزار بیرونی ملک منتقلی سے متعلق مختلف مراحل، بشمول انٹرویوز اور سکیورٹی کلیئرنس مکمل کر چکے ہیں جبکہ کئی افراد کو تیسرے ممالک میں آبادکاری کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناءاللہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں، کوئی بھی غیرملکی پاکستان کے اندر غیرقانونی طور پر زبردستی نہیں رہ سکتا، ان کی موجودگی کو فارن ایکٹ 1946ء کے تحت ریگولیٹ کیا گیا ہے اور یہ وفاقی حکومت کا ڈومین ہے ان کے ویزے زائد المعیاد ہوچکے ہیں جس سے ان کی یہاں رہائش قانونی نہیں ہوسکتی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یو این ایچ سی آر حکومت کو ویزے کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن نہیں دے سکتا، یو این ایچ سی آر معاہدے کے تحت یہاں کام کرسکتا ہے تاہم وہ ان کے احکامات یا دستاویزات کے پابند نہیں ہیں، یہ درخواستیں خارج کردی جائیں۔

دلائل کے بعد عدالت نے ان کی بے دخلی روکتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزاروں کی حیثیت کا تعین کرے۔

مزید خبریں

Back to top button