خطےکی دفاعی بساط بدلنے لگی!مکہ دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت کاراستہ بن گیا!کئی ممالک کی نیندیں حرام

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ:جانوڈاٹ پی کے)پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے دائرہ کار میں توسیع کے امکانات سامنے آئے ہیں، جس میں مصر کی ممکنہ شمولیت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے عندیہ دیا ہے کہ مصر بھی اس دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتا ہے۔
ہاکان فیدان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے پر گزشتہ جمعہ کو دستخط کیے گئے، جس کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور پائیدار دفاعی صلاحیتیں تشکیل دینا ہے۔
مصر کی شمولیت کا امکان
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بتایا کہ دفاعی تعاون کے اس فریم ورک میں ایک اور ملک کو شامل کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق بعض تکنیکی معاملات حل ہونے کے بعد مصر بھی معاہدے میں شامل ہونے کے قریب ہے۔
انہوں نے مصر کو ترکیہ کا ’’فطری ساتھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انقرہ پہلے ہی قاہرہ کے ساتھ اتحادی کی حیثیت سے رابطے میں ہے۔ ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان شروع ہونے والا دفاعی تعاون مستقبل میں مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر توجہ
ہاکان فیدان کے مطابق حالیہ دفاعی معاہدے کا مقصد صرف روایتی فوجی تعاون تک محدود نہیں بلکہ طویل المدتی اور پائیدار دفاعی صلاحیتیں تعمیر کرنا بھی ہے۔
تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں ممکنہ اضافے کو خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی مختلف شعبوں میں دفاعی اور تزویراتی تعاون رکھتے ہیں، تاہم نئے معاہدے کے ذریعے اس تعاون کو مزید مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصر کیوں اہم ہے؟
مصر خطے کی اہم عسکری طاقتوں میں شمار ہوتا ہے اور عرب دنیا میں اس کا دفاعی و تزویراتی کردار نمایاں ہے۔ ایسے میں اگر مصر بھی اس دفاعی فریم ورک میں شامل ہوتا ہے تو اس تعاون کا دائرہ اور اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ کی جانب سے مصر کو ’’فطری ساتھی‘‘ قرار دینا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انقرہ قاہرہ کے ساتھ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
معاہدے کا دائرہ بڑھنے کے امکانات
مصر کی ممکنہ شمولیت سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان دفاعی رابطوں کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل پانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انٹیلی جنس شیئرنگ، دفاعی تربیت، فوجی مشقوں، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی تفصیلات مصر کی باضابطہ شمولیت اور معاہدے کی ممکنہ توسیع کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
ہاکان فیدان کے بیان کے مطابق فی الحال کچھ تکنیکی معاملات زیرِ غور ہیں اور ان کے حل کے بعد مصر کی شمولیت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
خطے میں نئی دفاعی صف بندی؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں مصر کی ممکنہ شمولیت نے خطے میں نئی تزویراتی صف بندی کے امکانات پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اگر مصر باضابطہ طور پر اس معاہدے کا حصہ بنتا ہے تو چار اہم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک وسیع فریم ورک سامنے آسکتا ہے۔
تاہم ترک وزیر خارجہ کے مطابق اس وقت مصر کی شمولیت تکنیکی معاملات کے حل سے مشروط ہے۔ اس لیے حتمی فیصلہ اور معاہدے میں توسیع کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس تعاون کے اصل دائرہ کار اور اثرات کا تعین ہوسکے گا۔
یوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ ممکنہ طور پر ایک وسیع تر علاقائی دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے، جس میں مصر کی شمولیت اس فریم ورک کو مزید اہم بنا دے گی۔



