بدین:صحافی پیرعلی مراد شاہ پر مقدمے کیخلاف صحافتی برادری کا شدید احتجاج،غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/پی کے) پنگریو کے سینئر صحافی پیر علی مراد شاہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ گھر جاتے ہوئے سول کپڑوں میں ملبوس اور سول کار میں سوار پنگریو تھانے کے ایس ایچ او نے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اسلحہ کے زور پر راستے میں اغوا کرلیا بیٹے نے مزاحمت کرکے خود کو چھڑالیا سول کپڑوں میں مسلح پولیس اہلکاروں نےصحافی کو ساتھ لے گئے اطلاع ملنے پر پنگریو کے صحافیوں اور صحافی کے لواحقین نے پنگریو پولیس سے رابطہ کیا تو ایس ایچ او پنگریو مولچند نے صحافی کے اغوا اور گرفتاری سے کا علمی ظاہر کردی پریس کلب پنگریو کے جنرل سیکریٹری اور سینئر صحافی پیر علی مراد شاہ کو مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا واقعے کے مطابق پنگریو شہر کے سینئر صحافی سندھی چینل ٹائم نیوز کے رپورٹر پریس کلب پنگریو کے جنرل سکریٹری پیر علی مراد شاہ اپنے بیٹے رجب شاہ کے ہمراہ پنگریو سے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں سول کپڑوں میں ملبوس نجی کار میں سوار ایس ایچ او پنگریو چار مسلح پولیس اہلکاروں نے صحافی کو روک کر زبردستی گاڑی میں بٹھا لیا اس دوران ان کے بیٹے رجب شاہ نے مزاحمت کی اور سول کپڑوں میں مسلح پولیس اہلکاروں کے چنگل سے خود کو چھڑانے کے بعد چیخ وپکار شروع کردی تاہم مسلح ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکار صحافی پیر علی مراد شاہ کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے واقعے کے بعد علاقے میں اور صحافی برادری میں شدید تشویش اور خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے صحافیوں اور صحافی کے لواحقین کی جانب سے رابطہ کرنے پر ایس ایچ او پنگریو مولچند نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کردیا جبکہ رات کو دیر سے صحافی پیر علی مراد شاہ سے ایک پسٹل برآمد دکھا کر اس پر پنگریو تھانے پر پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے اس کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے پریس کلب پنگریو کے صحافیوں بدین یونین آف جرنلسٹس ورکرز ضلع بدین کے صدر مرتضیٰ میمن جنرل سیکریٹری ناصر جت اور پیر علی مراد شاہ کے ورثاء نے پنگریو پولیس کی جانب سے صحافی کو اغوا کرنے اور بعد میں اس پر جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے اور واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں پر صحافی کے اغوا اور جھوٹہ مقدمہ درج کرنے پر کاروائی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ صحافتی حلقوں نے واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک سینئر صحافی بھی دن دہاڑے محفوظ نہیں تو عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین سوالات جنم لیتے ہیں یاد رہے اس سے قبل بدین کے ایک سندھی نجی ٹی وی کے رپورٹر آئیس کے نشے میں اپنی والدہ پر تشدد کرنے کے باعث فوت ہونے کی نیوز چلانے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس صحافی کو تھانے پر بلاکر اس کی تذلیل کی گئی تھی لیکن آزاد صحافت کی علمبردار صحافتی تنظیموں کی جانب سے مجرمانہ خاموشی کے باعث اس صحافی کی کوئی داد فریاد نہیں ہوئی اس وقت بدین کے وہ صحافی کو منشیات اور منشیات فروش ڈیلروں کی میڈیا کے ذریعے نشاندھی اور بدین کے سرکاری اداروں اور بلدیاتی اداروں میں کرپشن کی نشاندھی کرتے ہیں کو بھی تھریڈ ہیں بدین یونین آف جرنلسٹس ورکرز ضلع بدین کے صدر مرتضیٰ میمن نے ملک بھر کی صحافتی تنظیموں اور اداروں کو اپیل کی ہے کہ زیرین سندھ کے صحافیوں کو تحفظ دینے کے لیئے عملی طور پر لاء عمل تیار کیا جائے



