تھرپارکر کے تازہ لائیو اسٹاک سروے میں 70 لاکھ 19 ہزار 636 مویشی ریکارڈ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر کی تازہ لائیو اسٹاک سروے رپورٹ میں ضلع بھر میں مویشیوں کی بڑی تعداد کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تھرپارکر میں مختلف اقسام کے مویشیوں کی مجموعی تعداد 70 لاکھ 19 ہزار 636 ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مجموعی مویشیوں میں سب سے زیادہ تعداد بکریوں کی ہے، جو 33 لاکھ 28 ہزار 542 بنتی ہے۔ تازہ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق تھرپارکر میں 19 لاکھ 23 ہزار 279 بھیڑیں، 12 لاکھ 20 ہزار 817 گائیں، 2 لاکھ 96 ہزار 34 گدھے، ایک لاکھ 63 ہزار 971 اونٹ، 75 ہزار 184 بھینسیں، 10 ہزار 36 گھوڑے اور ایک ہزار 774 خچر بھی موجود ہیں۔ تحصیل وار سروے کے مطابق نگرپارکر میں سب سے زیادہ 16 لاکھ 5 ہزار 45 مویشی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اسلام کوٹ میں 10 لاکھ 14 ہزار 114، کلوئی میں 10 لاکھ 9 ہزار 102، مٹھی میں 9 لاکھ 80 ہزار 429، ڈیپلو میں 9 لاکھ 79 ہزار 280، چھاچھرو میں 7 لاکھ 21 ہزار 915 اور ڈاہلی میں 7 لاکھ 14 ہزار 251 مویشی موجود ہونے کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سروے کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ تھرپارکر کے دیہی علاقوں میں مویشی پالنا آج بھی ایک بڑی معاشی سرگرمی ہے، جہاں ہزاروں خاندانوں کی آمدنی اور روزگار کا انحصار مویشیوں پر ہے۔ مقامی مالوند افراد کے مطابق تھرپارکر کی تقریباً 75 فیصد آبادی کا گزر بسر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مویشیوں سے وابستہ ہے۔ مویشی تھر کے متعدد خاندانوں کے لیے دودھ، گوشت، جانوروں اور بچوں کی فروخت سمیت دیگر معاشی ضروریات پوری کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ بارشوں کے موسم میں بھی تھرپارکر کی مختلف تحصیلوں سے بڑی مقدار میں دودھ ٹینکروں کے ذریعے ڈیری فارمز اور دیگر خریداروں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علاقے میں مویشی پالنے کا شعبہ کس بڑے پیمانے پر موجود ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایک طرف ضلع میں مویشیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، جبکہ دوسری جانب مویشیوں کے لیے قدرتی چراگاہوں اور گوچر زمین کی دستیابی دن بہ دن محدود ہوتی جا رہی ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق کئی مقامات پر گوچر کے لیے مختص زمین بھی کاشت کے زیرِ استعمال آ چکی ہے، جس کے باعث مالوند خاندانوں کو اپنے مویشی چرانے کے لیے مناسب چراگاہیں دستیاب نہیں۔ بعض علاقوں میں صورتحال یہ ہے کہ گوچر زمین کا انتہائی معمولی حصہ ہی عملی طور پر خالی بچا ہے۔ مالوند افراد کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور لاکھوں مویشیوں کی تعداد کے تناسب سے چراگاہوں کا مناسب انتظام نہ کیا گیا تو مستقبل میں مویشیوں کی پرورش، دودھ کی پیداوار اور مالوند خاندانوں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تازہ لائیو اسٹاک سروے کو بنیاد بنا کر تھرپارکر میں چراگاہوں اور گوچر زمین کی ازسرِنو منصوبہ بندی کی جائے اور مویشیوں کی موجودہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر تحصیل میں مناسب زمین مختص کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ گوچر زمینوں کی حد بندی کرکے انہیں محفوظ بنایا جائے، جبکہ گوچر زمین پر غیر قانونی قبضوں، کاشت اور دیگر استعمال کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ماہرین اور مقامی مالوند افراد کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں لاکھوں مویشیوں کی موجودگی کو صرف روایتی مویشی پالنے کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے مقامی معیشت کے اہم شعبے کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے مؤثر پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مالوند افراد کے لیے چراگاہوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پانی، ویٹرنری سہولیات، مویشیوں کی ویکسینیشن، بہتر نسلوں، دودھ کی مارکیٹ اور مناسب نرخوں کے لیے بھی مستقل منصوبہ بندی کی جائے، تاکہ تھرپارکر کے لاکھوں مویشیوں سے مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل ہو سکے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 70 لاکھ سے زائد مویشیوں والے ضلع میں اگر چراگاہوں کی زمین کو محفوظ نہ کیا گیا تو مویشی پالنے سے وابستہ خاندانوں کے لیے مستقبل میں چارے کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔



