نایاب چنکارا ہرن شکاریوں کے نشانے پر، کتوں سے تعاقب اور شکار کی اطلاع نے ہلچل مچا دی

تھرپارکر (رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تھرپارکر میں نایاب اور خوبصورت چنکارا ہرنوں کے مبینہ غیرقانونی شکار کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا، جہاں چیلہار کے قریب روہیلا پاڑو کے نزدیک کھیتوں میں شکاریوں نے مبینہ طور پر شکاری کتوں کی مدد سے ہرنوں کا تعاقب کیا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق شکاری کتوں کے ذریعے چنکارا ہرنوں کو کھیتوں اور صحرائی علاقے میں دوڑایا گیا، جبکہ شکار کی اطلاع ملنے پر مقامی دیہاتی موقع پر پہنچ گئے۔ دیہاتیوں کے شور اور مزاحمت کے بعد مبینہ شکاری اپنے کتوں سمیت وہاں سے فرار ہوگئے۔

شکاری کتوں کے ساتھ اچانک داخل ہونے کا الزام

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے اور مبینہ شکاری مختلف راستوں سے علاقے میں داخل ہوکر چنکارا ہرنوں سمیت دیگر جنگلی جانوروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

دیہاتیوں کے مطابق چنکارا ہرن، رونجھ اور دیگر جنگلی حیات تھر کے قدرتی ماحول اور حسن کا اہم حصہ ہیں، تاہم غیرقانونی شکار کے باعث ان نایاب جانوروں کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔

’’اطلاع دیتے ہیں، کارروائی دیر سے ہوتی ہے‘‘

علاقہ مکینوں نے متعلقہ محکمہ وائلڈ لائف پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شکاریوں کی موجودگی کی اطلاع بروقت دیے جانے کے باوجود بعض مواقع پر کارروائی میں مبینہ تاخیر ہوتی ہے۔

دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ جب تک متعلقہ اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں، مبینہ شکاری شکار کرکے علاقے سے نکل چکے ہوتے ہیں، جس کے باعث انہیں گرفتار کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق متعدد مواقع پر دیہاتیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مبینہ شکاریوں کا تعاقب کیا اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی۔

تھر کی جنگلی حیات خطرے میں؟

سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر غیرقانونی شکار کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو تھرپارکر کی نایاب جنگلی حیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چنکارا ہرن اور دیگر جنگلی جانور تھر کے قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کے لیے محض اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔

داخلی راستوں پر سخت چیکنگ کا مطالبہ

دیہاتیوں، سماجی حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ سندھ، صوبائی محکمہ وائلڈ لائف، کمشنر میرپورخاص ڈویژن، ڈی آئی جی میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر، ایس ایس پی تھرپارکر اور پاکستان رینجرز کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیرقانونی شکار کے خلاف فوری اور مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھرپارکر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور پولیس چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ شکار کی غرض سے آنے والے افراد کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

سماجی حلقوں نے مزید مطالبہ کیا کہ غیرقانونی شکار میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور محکمہ وائلڈ لائف و پولیس مشترکہ گشت اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کریں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ تھرپارکر صرف ریت کے وسیع میدانوں کا نام نہیں بلکہ نایاب جنگلی حیات کا قدرتی مسکن بھی ہے، اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو شکاریوں کی سرگرمیاں اس قدرتی ورثے کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button