وفاق کےدن گنے جاچکے،الیکشن کمیشن ن لیگ کی بی ٹیم،شرجیل میمن،پیپلزپارٹی پی ٹی آئی کی بی ٹیم،رونےدھونےسےکچھ نہیں ہوگا،عظمیٰ بخاری

پی سی بی اوروزارت داخلہ کیسے چل رہی ہے،سب کوپتا ہے؟وزیر اطلاعات پنجاب

اسلام آباد/لاہور(سپیشل رپورٹ،جانوڈاٹ پی کے)مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کےد رمیان لفظی گولہ باری رکنے کانام نہیں لے رہی،ایکدوسرے پرطنز کے نشتر چلائے جارہے ہیں،ایکدوسرے کیخلاف پریس کانفرنسز کی جا رہی ہیں۔

سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے آزاد کشمیر انتخابات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن کی مبینہ ملی بھگت واضح طور پر نظر آئی، جس کا نشانہ پاکستان پیپلز پارٹی بنی۔

پیپلز سیکریٹریٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات سے قبل ہی شفاف اور غیرجانبدار الیکشن کا مطالبہ کیا تھا، تاہم کشمیری عوام کے مینڈیٹ کے بجائے ن لیگ کے سیاسی مفادات کو ترجیح دی گئی۔

"صدر آزاد کشمیر پر حملہ، پہلے سے مہربند بیلٹ پیپرز، شرجیل میمن نے سنگین الزامات لگا دیے”

انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ان کی پوری ٹیم ن لیگ کی "بی ٹیم” بنی رہی، متعدد تحریری شکایات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ 2024 کے عام انتخابات کے "فارم 47” کے بعد اب آزاد کشمیر میں "فارم 47 پلس” متعارف کرا دیا گیا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ دو حلقوں میں پولنگ ملتوی کرنے کے لیے بارش کو جواز بنایا گیا، حالانکہ الیکشن کمیشن کو اپنی انتظامی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نکیال میں پیپلز پارٹی کے کارکن مختیار کو شہید کیا گیا، مگر ن لیگ کی قیادت نے اس کی بھی تردید کی۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے صدر پر حملہ کیا گیا، فاروق حیدر کے حلقے میں کھلی دھاندلی ہوئی، پولیس کی موجودگی میں بے ضابطگیاں کی گئیں، جبکہ بعض بیلٹ پیپرز پہلے سے ن لیگ کی مہروں کے ساتھ گردش کرتے رہے۔ شرجیل میمن کے مطابق ان تمام الزامات کے ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔

"‘چیف الیکشن کمشنر ن لیگ کی بی ٹیم بنے رہے’، پیپلزپارٹی کا سخت حملہ”

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم سے رجوع کرے گی اور کسی صورت میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور موجودہ حالات چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مؤقف کی تصدیق کر رہے ہیں۔

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر انتخابات کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی نتائج پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ کشمیری عوام نے پنجاب جیسی ترقی اور کارکردگی کو ووٹ دیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خواتین، خصوصاً بزرگ خواتین، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی سے متاثر ہو کر گھروں سے نکلیں اور بھرپور انداز میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 برس حکومت کرنے والوں کو اپنی کارکردگی اشتہارات کے ذریعے یاد دلانا پڑی، جبکہ عوام نے ووٹ کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی کی زمینی حقیقت سامنے آچکی ہے، لیکن قیادت نتائج تسلیم کرنے کے بجائے میڈیا پر شور مچا رہی ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ شرجیل میمن کی پریس کانفرنس کے ساتھ ہی "رونے دھونے” کا سلسلہ شروع ہوگیا، حالانکہ ابھی تک پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن میں ایک بھی باضابطہ درخواست جمع نہیں کرائی۔

"کشمیریوں نے پنجاب جیسی ترقی کو ووٹ دیا، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا، عظمیٰ بخاری”

وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ پہلے دعویٰ کیا گیا کہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے کو گولی لگی، پھر پتھراؤ اور بعد ازاں صرف دھکم پیل کی بات کی گئی۔ ان کے مطابق ایک ایم این اے اپنے گن مینوں کے ساتھ متعدد پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہوئے، جہاں ووٹرز کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی اور ایک مقام پر لوگوں نے انہیں روک دیا۔

عظمیٰ بخاری نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غلط اور جذباتی مشورے دیے جا رہے ہیں، جس کے باعث بعد میں وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ "کیا پیپلزپارٹی اس حد تک گر جائے گی کہ پی ٹی آئی پارٹ ٹو بن جائے؟”

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے اب تک ایک لاکھ سات ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی صرف بیس ہزار ووٹ لے سکی، اس لیے مقابلے کی کوئی صورت ہی نہیں بنتی۔

"ایک لاکھ 7 ہزار ووٹ بمقابلہ 20 ہزار، مقابلہ ہی نہیں تھا، عظمیٰ بخاری کا دعویٰ”

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ "پاکستان میں شاید پہلی بار کوئی جماعت زیادہ ٹرن آؤٹ پر بھی اعتراض کر رہی ہے۔” انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف سیکرٹری اور آئی جی کی موجودگی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں تو سندھ میں بھی یہی نظام موجود ہے، وہاں کامیابی کیسے حاصل ہو جاتی ہے؟

انہوں نے پیپلزپارٹی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "گلو بٹ کے طعنے دینے سے پہلے عزیر بلوچ اور رحمان ڈکیت جیسے کردار بھی یاد رکھیں، اتنا آگے نہ جائیں کہ واپسی کا راستہ نہ بچے۔ آزاد کشمیر کے عوام آپ کے رونے دھونے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔”

مزید خبریں

Back to top button