ایران کی نظر میں ٹرمپ کا ’’سیاسی قتل‘‘ کیا معنی رکھتا ہے؟

(عربی سے ترجمہ)

جیراردیب(Gérard Dib)

(جیرار دیب ایک ممتاز لبنانی مصنف، محقق اور یونیورسٹی پروفیسر ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹکس، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی خارجہ پالیسیوں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں امریکی اور ایرانی استعماری و سیاسی حکمت عملیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور عرب صحافت میں باقاعدگی سے سیاسی تجزیے تحریر کرتے ہیں)

اگست میں سامنے آنے والی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق امریکی خفیہ سروس نے گزشتہ ماہ، 8 جولائی کو، ایک خفیہ آپریشن کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انقرہ سے خفیہ طور پر باہر نکالا۔ یہ اقدام اسرائیلی انتباہ کے بعد کیا گیا تھا کہ ایران کی جانب سے کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل کے ذریعے ٹرمپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چنانچہ ٹرمپ نے کیمروں کے سامنے سرکاری صدارتی طیارے ’’ایئر فورس ون‘‘ پر سوار ہو کر مبصرین کو گمراہ کیا، جبکہ صدر اور ان کے معاونین کو خفیہ طور پر ایک چھوٹی فوجی طیارے، ’’سی-32 اے‘‘، تک رسائی دینے کے لیے سامانِ رسد لے جانے والے ایک ٹرک کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

ترکی اور امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس واقعے پر شکوک و شبہات اور ایران کی جانب سے اس روایت کی تردید کے باوجود ایک بات واضح ہے کہ ایران ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے امکان پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ’’قتل‘‘ سے مراد ٹرمپ کا جسمانی خاتمہ ہو؛ ایران شاید انہیں سیاسی طور پر ختم کرنے کی کوشش کرے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تہران کے پاس واقعی ایسا کرنے کا کوئی سنجیدہ موقع موجود ہے؟

ایران امریکا کے ساتھ جاری تنازع میں ہر دستیاب محاذ کو استعمال کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ حملہ شروع ہونے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بار بار ناکام ہونے کے بعد تہران نے اپنے تمام تر پتے کھیلنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اپنے دشمن کو تھکایا جا سکے اور اس کے اعلان کردہ جنگی اہداف کو منتشر کیا جا سکے۔ امریکا نے جون 2025 میں اپنے ابتدائی حملوں کے وقت ایران کے خلاف جو بنیادی مقصد بیان کیا تھا، وہ ایران کو جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا تھا۔

ایران نے اس کے جواب میں ایک ہمہ گیر جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے، خطے میں موجود اپنے اتحادی گروہوں کو میدان میں اتارا اور بالآخر آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا۔ یہی آبنائے ہرمز ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑی الجھن بن گئی، کیونکہ امریکی فوجی طاقت کے باوجود اسے بحری آمدورفت کے لیے طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنا آسان ثابت نہیں ہوا۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی رسد اسی راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتی ہے۔ اس کی بندش نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور امریکا کے تیل کے ذخائر پر تیزی سے دباؤ بڑھایا۔ ایران جان بوجھ کر اس اثر کو طول دینا چاہتا ہے تاکہ امریکی عوام اور ووٹرز پر اثر پڑے، بالخصوص ایسے وقت میں جب نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی جانب سے جون میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 2.98 ڈالر کا اضافہ ہوا، جو اس کے سابقہ اندازوں سے تقریباً ایک ڈالر زیادہ تھا۔

لیکن ایران امریکا کے خلاف اپنی جنگ صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رکھتا۔ تہران خطے میں تنازع کو مختلف محاذوں میں تقسیم کرنے کے لیے یمن میں حوثی گروہ کو سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات، خصوصاً آرامکو کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں یمن کے صوبے مأرب اور اس کے اطراف کے علاوہ مغربی ساحل پر واقع اہم شہر اور بندرگاہ المخا بھی زیرِ بحث ہیں۔ ایران نے سعودی بحری جہازوں کے لیے باب المندب سے گزرنے پر پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایران کی جانب سے حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ 1945ء کے ’’کوئنسی معاہدے‘‘ کو ختم کرنا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی عرب خطے میں امریکا کا ایک اہم تزویراتی اتحادی بن گیا تھا۔

ان مسلسل حملوں نے ریاض کو مجبور کیا کہ وہ اپنے دفاعی شراکت داری کے معاہدوں کو متنوع بنائے اور صرف واشنگٹن پر انحصار نہ کرے۔ اسی پس منظر میں ترکی اور پاکستان کے ساتھ مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی سامنے آیا۔

خطے میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ کے کارڈز کو ایران کی جانب سے اپنے اتحادیوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش نے ٹرمپ کے خطے میں امن مسلط کرنے کے منصوبے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا اعتراف بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لبنان میں موجود ’’صفِ اول‘‘ کے جنگجوؤں کے ساتھ ان کا رابطہ برقرار ہے، ایسے وقت میں جب لبنانی حکومت ریاستی خودمختاری مضبوط کرنے اور جنگ و امن کے فیصلے سمیت ہتھیاروں کو ریاستی اداروں کے اختیار میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

قالیباف کا یہ بیان جنوبی لبنان میں ہونے والی فوجی پیش رفت کے ساتھ سامنے آیا۔ اسرائیل نے انصار اور دیر الزہرانی کے علاقوں پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس کے نتیجے میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 11 افراد شہید اور تقریباً 19 زخمی ہوئے۔

یہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے واضح فیصلے کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا بڑا تصادم سمجھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن نے یہ قدم فریم ورک معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے اٹھایا تھا، جس کے آٹھویں دور کی متوقع تاریخ ستمبر میں طے ہونا باقی ہے۔

اب یہ فرق واضح ہوتا جا رہا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کو امریکا اور ایران کس طرح مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ امریکا بالخصوص لبنان کے محاذ پر کشیدگی کم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ ایران اس محاذ کو کشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

تہران سمجھتا ہے کہ یہی مناسب وقت ہے کہ مختلف محاذوں کو دوبارہ فعال کیا جائے، تاکہ امریکا کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کیا جا سکے اور مذاکرات کی بنیاد اس اعتراف پر رکھی جائے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ ہار چکا ہے۔

جب تک ٹرمپ کے ہاتھ میں فیصلہ سازی اور پہل کا اختیار موجود ہے، واشنگٹن کی ایران کے خلاف جنگ جاری رہ سکتی ہے۔ انہیں کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جانب سے حمایت حاصل ہے۔

ایسے میں بظاہر ایران کی جانب سے ٹرمپ کو ’’سیاسی طور پر قتل‘‘ کرنے کی کوشش کا آغاز خود امریکی کانگریس سے ہوتا ہے۔ یعنی ٹرمپ کے انتظامی فیصلوں کو آئینی اور قانونی تحفظ فراہم کرنے والی سیاسی حمایت ختم کرنا اور ان کے اختیارات کو محدود کرنا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران اپنے سیاسی اور علاقائی پتے استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ کو سیاسی طور پر ختم کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے؟

کیا ایران وہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے جو غزہ کے معاملے میں سامنے آئی، جہاں غزہ کے اثرات نے ٹرمپ کو اپنی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور کیا اور امریکی سیاست میں ایک غیر متوقع پیش رفت سامنے آئی؟ اس کی نمایاں مثال ریاست مینیسوٹا کے پانچویں انتخابی حلقے سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الہان عمر کی پرائمری انتخابات میں شاندار کامیابی ہے، جہاں انہوں نے 80 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کی۔

مزید خبریں

Back to top button