چوہا یا آدھا انسان؟ قدرت کی حدود سے کھیلتا ہوش رُبا سائنسی تجربہ،آگے کیا ہو گا؟

نہال معظم

سائنس کی دنیا میں ایک بار پھر حدود و قیود کو پاش پاش کرنے والا ایک ایسا سنسنی خیز تجربہ سامنے آیا ہے جس نے دنیا بھر کے محققین، ماہرینِ اخلاقیات اور فلاسفرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی تجربہ گاہوں میں ہونے والی اس پیش رفت کے تحت چوہوں کے اندر انسانی دماغی خلیات کا اس طرح پیوند لگایا گیا ہے کہ ان کے دماغ کا بڑا حصہ انسانی خلیات پر مشتمل ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ مرضِ شیزوفرینیا، آٹزم اور اعصابی تنزلی جیسے پیچیدہ امراض کے علاج کی تلاش کا ایک سائنسی اقدام ہے، لیکن حقیقت میں یہ انسانیت کو ایک خطرناک اور تاریک دور کی طرف دھکیل رہا ہے۔

یہ صرف خلیات کا ملاپ نہیں، بلکہ دو مختلف دنیاؤں کا ایک ایسا تصادم ہے جو کائنات کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کرتا ہے۔ جب ایک جانور کے جسم میں انسان کی سوچ، شعور اور اعصابی نظام کے بنیادی اجزاء داخل کیے جاتے ہیں، تو یہ سوال لازمی طور پر سر اٹھاتا ہے کہ اس مخلوق کی حیاتیاتی اور ذہنی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا ہم نے لیبارٹری کی چار دیواری میں ایسے ہائبرڈ جاندار پیدا کر لیے ہیں جو حیوان اور انسان کے درمیان کی کسی گمشدہ اور خوفناک کڑی کی نمائندگی کرتے ہیں؟ یہ سوال صرف سائنسی تجسس کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے جڑے اخلاقی، قانونی اور وجودی پہلوؤں نے پوری انسانی تہذیب کے بنیادی تصورات کو ہلا دیا ہے۔

طبی ماہرین کا اصرار ہے کہ یہ ماڈلز اعصابی بیماریوں کے راز جاننے کے لیے ناگزیر ہیں، کیونکہ روایتی جانوروں پر ہونے والی تحقیق ناکافی ثابت ہو چکی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی مقصد کے حصول کے لیے بھی اخلاقی دیواروں کو گرا دینا جائز ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے قدرت کے قوانین کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی، نتیجے میں خوفناک انحرافات اور بحران جنم لیں۔ دماغ کے خلیات میں اس نوعیت کی مداخلت دراصل حیات کے اس تقدس پر حملہ ہے جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ سائنسی برادری خود اس تجربے کے نتائج پر متفق نہیں، اور کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ انسانی خلیات کی موجودگی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ چوہے میں انسانی شعور یا خود آگاہی پیدا ہو گئی ہے، مگر یہی غیر یقینی صورتحال اس معاملے کو مزید خطرناک بناتی ہے، کیونکہ جب ہم خود نہیں جانتے کہ ہم نے کیا تخلیق کیا ہے، تو اس کے نتائج کا اندازہ لگانا محال ہے۔

یہ سائنسی تجربہ اس تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ آج کی سائنسی دوڑ میں عقل و حکمت پیچھے رہ گئی ہے اور تسخیر کی ہوس سب کچھ نگل رہی ہے۔ اگر اس طرح کے تجربات پر عالمی سطح پر کڑے اخلاقی ضابطے اور پابندیاں عائد نہ کی گئیں، تو وہ دن دور نہیں جب سائنس کا یہ ہولناک جن بوتل سے باہر آ کر خود انسانی وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جائے گا۔ اصل خطرہ خود تجربہ نہیں، بلکہ وہ خاموشی اور بے حسی ہے جس کے ساتھ دنیا اسے محض ایک اور سائنسی پیش رفت سمجھ کر نظرانداز کر رہی ہے، حالانکہ یہ لمحہ وہ ہے جب انسانیت کو اپنے آئینے میں جھانک کر یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ کس حد تک جانے کو تیار ہے۔

مزید خبریں

Back to top button