یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، 40 ڈگری سے زائد درجہ حرارت، کئی ممالک میں نئے ریکارڈ قائم

فرانس(مانیٹرنگ ڈیسک) اسکینڈے نیویا سے الپس تک یورپ کا بڑا حصہ شدید گرمی کی لہر کی زد میں آ گیا، جہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جبکہ مختلف ممالک میں تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ بھی قائم ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس سمیت مختلف یورپی ممالک میں شدید گرمی کے باعث درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ جرمنی، ڈنمارک، چیک جمہوریہ اور سوئٹزرلینڈ میں بھی غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی۔
جرمن محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ کے علاقے مویکرن-ڈریوٹز میں درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک کی تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت میں شمار ہوتا ہے۔ ڈنمارک میں بھی 1874 سے ریکارڈنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ چیک جمہوریہ میں 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
شدید گرمی کے باعث جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پولیس نے شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے واٹر کینن کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا، جبکہ سلوواکیہ کے دارالحکومت براتسلاوا میں ملکی تاریخ کی گرم ترین رات ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی گرمی کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق رات کے وقت ریکارڈ ہونے والی شدید گرمی اب دو دہائیاں پہلے کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ ممکن ہو چکی ہے۔
جرمنی کی گرین پارٹی کی سابق پارلیمانی رہنما کترین گوئرنگ ایکارٹ نے کہا کہ یہ صرف گرمی نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا سنگین بحران ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔



