امن ایک بار پھر داؤ پر: امریکی مطالبات میں پھر ردو بدل ،ایران کا سخت ردعمل

​تہران: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے، جس کے ساتھ ہی ابنائے ہرمز میں جنگی بادل گہرے ہونے لگے ہیں۔ باوثوق اطلاعات کے مطابق، پیر کے روز اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات تاحال مؤخر کر دیے گئے ہیں کیونکہ ایران نے امریکی مطالبات میں مسلسل تبدیلی اور نئی شرائط کے اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بار بار ڈرافٹ میں رد و بدل امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس سفارتی تناؤ کا فوری اثر ابنائے ہرمز میں دیکھنے کو ملا جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ناکہ بندی سخت کرتے ہوئے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دی ہے۔ تازہ ترین چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بحریہ نے دو بھارتی تیل بردار جہازوں ‘سنمار ہیرلڈ’ اور ‘جاگ ارنف’ پر فائرنگ کی ہے اور 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے والے انڈین ٹینکر کو میزائل سے اڑا دینے کی دھمکی دی گئی، جس کے بعد جہازوں کو واپس مڑنا پڑا۔

​تجزیہ کاروں کے مطابق، اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے سرنڈر کر دیا ہے اور اپنا تمام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر راضی ہے۔ مزید برآں، یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ امریکہ نے ایران کے شہر اصفہان میں اپنا فوجی اڈہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس نے ایرانی قیادت کو مشتعل کر دیا ہے۔ ایران کے اندرونی حالات بھی پیچیدگی کا شکار ہیں جہاں رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنائی کی علالت اور منظرِ عام سے غائب ہونے کے باعث حکومت اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان فیصلوں میں ہم آہنگی کا فقدان نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف وزیر خارجہ عباس عراقچی ابنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کرتے ہیں تو دوسری طرف آئی آر جی سی طاقت کا استعمال شروع کر دیتی ہے۔ صورتحال اس وقت انتہائی نازک ہے اور پاکستانی ثالث کے ذریعے بیک چینل رابطے تو جاری ہیں، لیکن جب تک دونوں فریقین مشترکہ نکات پر متفق نہیں ہوتے، خطے میں کسی بھی وقت بڑی عسکری تصادم کا خطرہ موجود ہے۔

​مذاکرات میں تعطل کی اندرونی کہانی، اصفہان میں امریکی اڈے کا مطالبہ اور انڈین جہازوں پر حملے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے سینئر صحافی معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ ملاحظہ کریں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button