ایف آئی اے نے سعودی عرب سے واپسی پر 3 خواتین کو مبینہ جسم فروشی کے الزام میں گرفتارکر لیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو سعودی عرب سے واپسی پر حراست میں لے لیا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق خواتین نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ ایجنٹوں کے ذریعے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھیجی گئیں جہاں وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث رہیں۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ مسافروں کی معمول کی امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کے رویے مشکوک لگنے پر تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک خاتون رابعہ زینب نے بتایا کہ لاہور کے رہائشی ایجنٹ شاہین نے اسے بیوٹی پارلر میں ملازمت اور ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا جھانسہ دے کر سعودی عرب بھجوایا، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئی، بعد ازاں سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد سزا مکمل ہونے پر اسے پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔

اسی طرح دیگر دو خواتین سونیا اور سدرا بی بی نے بیان دیا کہ انہوں نے ایک ایجنٹ رشید کے ذریعے سعودی عرب جانے کا انتظام کیا تھا جہاں انہیں ایک لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ ملازمت کا وعدہ کیا گیا، تاہم بعد میں وہ بھی مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئیں، سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد دونوں خواتین کو سزا پوری ہونے پر پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔

ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں خواتین کو مزید کارروائی اور ایجنٹوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا۔

مزید خبریں

Back to top button