ایران کیخلاف امریکاکا پلان اے فیل ،پلان بی تیار،شمالی کوریا نے بھی تیاری پکڑ لی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جس عسکری کا مقصد تہران میں "چین آف کمانڈ” کو توڑ کر ریجیم چینج لانا تھا، مگر اب یہ پورا منصوبہ ایک بھیانک خواب بن کر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے اعلان کے لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکل آئے، جس سے حکومت کو وہ عوامی حمایت ملی جس کی توقع امریکہ کو ہرگز نہیں تھی۔ اس کے بعد "پلان بی” بھی بری طرح ناکام ثابت ہوا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کو امید تھی کہ ایران کی جوابی کارروائی کے بعد خلیجی ریاستیں خود بخود جنگ میں کود پڑیں گی، مگر ان ممالک نے بڑی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف غیر اعلانیہ طور پر جنگ سے دوری اختیار کی بلکہ اس کارروائی کا حصہ بننے سے بھی صاف انکار کر دیا۔

​اب صورتحال یہ ہے کہ امریکہ ایک ایسی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں اُس کی معیشت جنگ کا مزید بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے اور پینٹاگون کے پاس انٹرسیپٹرز اور میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپنی اس تاریخی ہزیمت کو چھپانے کے لیے امریکہ اور اسرائیل ایک بار پھر انسانیت کے خلاف "ایٹمی کارڈ” استعمال کرنے جا رہے ہیں؟ اگر انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لیا، تو یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ شمالی کوریا اور دیگر ایٹمی طاقتوں کے میدانِ عمل میں آنے سے پوری دنیا ایک ایسی تباہی کی لپیٹ میں آ جائے گی جس کا تصور بھی محال ہے۔

​اس پوری صورتحال اور جنگ کے خطرناک مستقبل پر گہری نظر ڈالتے ہوئے سینئر صحافی شکیل ملک نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ اب اس موڑ پر ہے جہاں سے واپسی کے راستے بند ہو چکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button