تھرپارکر میں گیس سلنڈروں کے ذریعے موت کا کاروبار: نگرپارکر سانحے نے 8 انسانی جانیں نگل لیں، انتظامی غفلت اور حفاظتی نظام پر سنگین سوالات!

کالم نگار: میندھرو کاجھروی

تھر کی ریتلی دھرتی، جہاں پہلے ہی غربت، صحت کی سہولیات کی کمی اور بنیادی مسائل کے باعث عام آدمی مشکلات کا شکار ہے، وہاں اب گیس سلنڈروں کے غیر محفوظ استعمال اور حفاظتی انتظامات کی خامیاں انسانی زندگیوں کے لیے ایک نیا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ نگرپارکر کے گاؤں ڈانو دھاندل میں اسپتال کی ایمبولینس میں آگ لگنے اور آکسیجن سلنڈر پھٹنے کے افسوسناک واقعے میں اطلاعات کے مطابق آٹھ افراد کی ہلاکت اور پانچ کے زخمی ہونے کی خبر نے پورے ضلع کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ صحت کے نظام، ہنگامی خدمات، سلنڈروں کی حفاظت اور انتظامی نگرانی کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جب کوئی مریض علاج کے لیے اسپتال پہنچتا ہے تو اسے امید ہوتی ہے کہ وہاں اسے زندگی بچانے کی سہولیات میسر آئیں گی، لیکن اگر اسپتال کی حدود میں ہی حفاظتی انتظامات کی ممکنہ کمی کے باعث ایسا سانحہ پیش آ جائے تو پھر عام شہری اپنی جان کی حفاظت کے لیے کس پر بھروسا کرے؟

 نگرپارکر سانحہ: حادثہ یا حفاظتی نظام کی ناکامی؟

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مریضوں کو مزید علاج کے لیے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کے دوران ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر سے متعلق دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس افسوسناک واقعے میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں محکمہ صحت کے ملازم جسونت میگھواڑ، ایمبولینس ڈرائیور اسحاق تھیبو، پانڈی راجڑ اور دینو میگھواڑ کے نام اطلاعات میں سامنے آئے ہیں۔

تاہم واقعے کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے آکسیجن سلنڈر، والو، ریگولیٹر، ایمبولینس میں موجود سامان، عملے کی تربیت اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات کی فنی جانچ ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ سلنڈر میں کس نوعیت کی خرابی پیدا ہوئی اور آگ پر قابو پانے کے لیے دستیاب سہولیات کافی تھیں یا نہیں۔

اگر تحقیقات میں کسی ادارے یا ذمہ دار شخص کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی کو قصوروار قرار دینے کے بجائے شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔

 مٹھی میں اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایات: قدم اہم، مگر عمل درآمد ضروری

نگرپارکر سانحے کے بعد مٹھی کے سونارا محلے میں گھر کے اندر گیس سلنڈر پھٹنے کے واقعے کے تناظر میں اسسٹنٹ کمشنر مٹھی نے ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا ہنگامی اجلاس طلب کرکے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ایل پی جی کی دکانوں کو گنجان آبادی سے باہر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ہر دکان پر آگ بجھانے کے آلات رکھنے، خراب اور زنگ آلود سلنڈروں کو ہٹانے اور گاڑیوں میں غیر قانونی طور پر ایل پی جی بھرنے سے گریز کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان احکامات پر عمل نہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

عوام کی حفاظت کے لیے یہ اقدامات اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان احکامات پر روزانہ کی بنیاد پر عمل درآمد بھی ہوگا؟ کیا ضلع کے دیگر شہروں اور دیہات میں بھی ایل پی جی کی دکانوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ کیا سلنڈروں کے معیار، دکانوں کے مقامات، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور غیر قانونی ری فلنگ کی نگرانی کے لیے باقاعدہ نظام قائم کیا جائے گا؟

احکامات جاری کرنا پہلا قدم ہے، لیکن مستقل اور مؤثر عمل درآمد ہی حقیقی کامیابی ہے۔

 زائد المیعاد سلنڈر اور غیر محفوظ ری فلنگ: ایک خاموش خطرہ

گیس سلنڈروں کی حفاظت کے لیے ان کی جسمانی حالت، مقررہ فنی معیار، والو، ریگولیٹر اور بروقت معائنہ انتہائی اہم ہیں۔ زنگ آلود، خراب، گیس لیک کرنے والے یا مقررہ حفاظتی معیار پر پورا نہ اترنے والے سلنڈر انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر پرانا سلنڈر لازماً زائد المیعاد نہیں ہوتا اور نہ ہی صرف نیا فائبر کا سلنڈر ہونے سے حفاظت کی ضمانت ملتی ہے۔ سلنڈر کا مواد، ڈیزائن، منظور شدہ معیار، فنی سرٹیفکیشن، معائنہ اور استعمال کا طریقہ، سب اہم ہیں۔ کسی بھی سلنڈر کو محفوظ قرار دینے کے لیے متعلقہ فنی معیار کی تصدیق ضروری ہے۔

اگر تھرپارکر میں غیر محفوظ سلنڈروں، غیر قانونی ری فلنگ یا مقررہ معیار کے بغیر گیس بھرنے کے واقعات موجود ہیں تو متعلقہ اداروں کو شواہد کے ساتھ ان کی نشاندہی کرکے قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ خطرناک سلنڈروں کو کباڑ خانوں یا غیر مجاز تاجروں تک پہنچنے سے پہلے محفوظ طریقے سے استعمال سے باہر کرنے کا انتظام بھی ضروری ہے۔

 ذمہ دار کون ہیں؟ اداروں کا کردار واضح ہونا چاہیے

ایسی صورتحال میں صرف دکانداروں کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں۔ عوام کی حفاظت کے لیے مختلف اداروں اور متعلقہ فریقوں کے اپنے اپنے فرائض ہیں۔

ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر:* متعلقہ قوانین اور اختیارات کے تحت دکانوں کے مقامات، حفاظتی انتظامات، غیر قانونی سرگرمیوں اور عوامی شکایات کی نگرانی، مشترکہ معائنوں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانا۔

اوگرا اور متعلقہ لائسنسنگ ادارے:* اپنے قانونی دائرہ اختیار میں ایل پی جی کے کاروبار کی لائسنسنگ، کاروباری ضوابط، معیار اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرکے ضروری قانونی اقدامات کرنا۔

وزن و پیمائش اور فنی معائنے کے متعلقہ ادارے:* اپنے اختیارات کے تحت سلنڈروں کے معیار، وزن، فنی حالت اور حفاظتی تقاضوں کی تصدیق کرنا۔ اگر کسی معائنہ کرنے والی ایجنسی کے خلاف رشوت یا فرائض میں غفلت کی شکایات ہوں تو ان کی آزادانہ اور شواہد پر مبنی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

محکمہ صحت اور اسپتال انتظامیہ:* آکسیجن سلنڈروں، ایمبولینسوں، طبی آلات، محفوظ ذخیرہ، عملے کی تربیت، ہنگامی انخلا اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا باقاعدہ معائنہ کرانا۔

ریسکیو اور فائر سروس:* ہنگامی حالات میں فوری ردعمل، آگ بجھانے کی تربیت، ضروری آلات اور اسپتالوں سمیت حساس مقامات پر ہنگامی مشقوں کی صلاحیت بہتر بنانا۔

ایل پی جی کے دکاندار اور سپلائرز:* قانونی لائسنس، منظور شدہ آلات، محفوظ ذخیرہ، تربیت یافتہ عملہ، گیس لیک ہونے سے بچاؤ اور غیر قانونی ری فلنگ سے اجتناب کو یقینی بنانا۔ ہر کاروباری شخص کا فرض ہے کہ وہ منافع سے پہلے انسانی زندگی کو اہمیت دے۔

عوام اور صارفین:* سلنڈر سے گیس لیک ہونے، خراب والو، غیر محفوظ ری فلنگ یا آگ کے خطرے کو نظرانداز نہ کریں اور مشکوک صورتحال میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

 قانون اور ضابطے کیا کہتے ہیں؟

پاکستان میں ایل پی جی کے کاروبار اور حفاظت کے حوالے سے ضوابط موجود ہیں۔ اصل مسئلہ قوانین کی عدم موجودگی سے زیادہ ان پر مؤثر عمل درآمد کا ہے۔

اوگرا کی ایل پی جی پالیسی اور متعلقہ ضوابط کے مطابق:

1. لائسنس اور اجازت نامے:* ایل پی جی کے ذخیرے، فلنگ اور تقسیم سے متعلق کاروبار کے لیے قابل اطلاق قوانین کے تحت مطلوبہ لائسنس اور جہاں ضروری ہو، محکمہ دھماکہ خیز مواد کی اجازت حاصل کرنا لازم ہے۔

2. سلنڈروں کی جانچ:* سلنڈروں کی تیاری، فنی جانچ اور مقررہ مدت کے بعد دوبارہ تصدیق کا انتظام ہونا چاہیے۔ متعلقہ مارکیٹنگ کمپنیوں پر بھی سلنڈروں کے معیار اور جانچ کے حوالے سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

3. غیر قانونی ری فلنگ:* ایک سلنڈر سے دوسرے سلنڈر میں ایل پی جی منتقل کرنے پر پابندیاں عائد ہیں، سوائے ان محدود صورتوں کے جن کی ضوابط میں اجازت دی گئی ہو۔ گھریلو یا تجارتی سلنڈروں کو گاڑیوں میں استعمال کرنے اور انہیں ایل پی جی گاڑیوں کے فلنگ اسٹیشنوں پر بھرنے پر بھی پابندیاں لاگو ہوتی ہیں۔

4. گاڑیوں کی حفاظت:* اوگرا کی ہدایات کے مطابق موٹر سائیکلوں اور عوامی مسافر گاڑیوں کی مخصوص اقسام میں ایل پی جی سلنڈر نصب کرنا غیر قانونی ہے۔ غیر محفوظ طریقے سے نصب سلنڈروں والی گاڑیوں میں گیس بھرنے سے بھی روکا گیا ہے۔

5. عوام کی جان و مال کا تحفظ:* ایل پی جی کے ذخیرے، فلنگ، نقل و حمل اور تقسیم سے متعلق اداروں کو قابل اطلاق حفاظتی معیاروں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ حادثات کی رپورٹنگ اور ذمہ داری کے تعین کے لیے بھی متعلقہ ضوابط موجود ہیں۔

 اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات: علاج کے ساتھ زندگی کا تحفظ بھی ضروری ہے

نگرپارکر سانحے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اسپتال مریضوں کے لیے امید کا مرکز ہوتا ہے۔ ایمبولینس، آکسیجن سلنڈر اور طبی آلات انسانی جان بچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت میں معمولی غفلت بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

ضلع کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈروں کی فنی حالت، والو اور ریگولیٹر، گیس لیک ہونے کی جانچ، محفوظ ذخیرہ، عملے کی تربیت، آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی انخلا کے راستوں کا معائنہ ہونا چاہیے۔

ہر اسپتال میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تحریری منصوبہ، ذمہ دار عملے کی فہرست اور وقتاً فوقتاً عملی مشقوں کا انتظام ہونا چاہیے۔ ایمبولینس کو محض ایک گاڑی سمجھنے کے بجائے ایک ایسی طبی سہولت تصور کیا جانا چاہیے جس میں موجود ہر آلے کی حفاظت اور کارکردگی کی باقاعدہ تصدیق ضروری ہو۔

محکمہ صحت کو نگرپارکر واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے نتائج عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔ اگر حفاظتی انتظامات میں کوتاہی ثابت ہو تو متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے واضح اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں۔

 تھرپارکر کے لیے سات اہم مطالبات

پہلا: نگرپارکر سانحے کی آزادانہ، فنی اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جس میں آکسیجن سلنڈر، ایمبولینس اور حفاظتی انتظامات کے ہر پہلو کا جائزہ لیا جائے۔

دوسرا: ضلع بھر میں ایل پی جی کی تمام دکانوں، گوداموں، فلنگ پوائنٹس اور تقسیم کے مراکز کی مشترکہ جانچ کی جائے۔ جن کاروباروں کے لیے لائسنس یا اجازت نامہ ضروری ہے، ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کی جائے۔

تیسرا: غیر محفوظ، خراب اور مقررہ فنی معیار پر پورا نہ اترنے والے سلنڈروں کو استعمال سے باہر کیا جائے اور مجاز طریقے سے محفوظ انداز میں تلف یا دوبارہ فنی تصدیق کے لیے بھیجا جائے۔

چوتھا: مٹھی، اسلام کوٹ، ڈیپلو، کلوئی، چھاچھرو، ڈاہلی اور نگرپارکر سمیت ضلع کی تمام تحصیلوں میں حفاظتی معائنے کا واضح شیڈول بنایا جائے۔

پانچواں: اسپتالوں اور ایمبولینسوں میں موجود آلات کی فنی جانچ، عملے کی تربیت اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا جامع آڈٹ کرایا جائے۔

چھٹا: اوگرا، ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، سول ڈیفنس، فائر سروس اور متعلقہ فنی معائنہ کرنے والے اداروں کے درمیان مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ معائنوں کے نتائج، قانونی کارروائیوں اور خامیوں کو دور کرنے کے اقدامات کے بارے میں رپورٹ جاری کی جائے۔

ساتواں: اگر کسی ادارے، کمپنی، دکاندار یا ذمہ دار اہلکار کی غفلت، غیر قانونی سرگرمی یا ضوابط کی خلاف ورزی شواہد کے ساتھ ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کے قانونی حقوق اور معاوضے کے معاملے پر بھی ضروری اقدامات کیے جائیں۔

 آخری سوال: انسانی جان کی قیمت کون ادا کرے گا؟

نگرپارکر سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کسی کے بیٹے، باپ، شوہر، بھائی اور خاندانوں کے سہارے تھے۔ ان کی جدائی کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ زخمی خواتین، بچوں اور دیگر متاثرین کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا اور ان کے خاندانوں کی مدد کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر حادثے کو محض قسمت کا لکھا قرار دے کر آگے بڑھ جانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حادثات سے سبق سیکھنا، ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور ایسی غلطیوں کی تکرار روکنا ہی حقیقی حکمرانی ہے۔

اگر معائنے کا نظام صرف کاغذوں تک محدود رہے، لائسنس اور این او سی کی تصدیق مؤثر نہ ہو، غیر قانونی ری فلنگ کے خلاف کارروائی نہ کی جائے اور اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کیا جائے تو عام شہریوں کی زندگیاں مسلسل خطرے میں رہیں گی۔

تھرپارکر کی ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کو اب عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ نگرپارکر کا سانحہ بھول جانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں انسانی جانیں بچانے کے لیے ایک سنجیدہ سبق بننا چاہیے۔

کیونکہ عوام کو صرف علاج کا حق نہیں بلکہ محفوظ علاج کا حق بھی حاصل ہے۔ کسی بھی انتظامی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ کتنی انسانی زندگیاں بچائی گئیں، نہ کہ کسی حادثے کے بعد کتنے احکامات جاری کیے گئے۔

مزید خبریں

Back to top button