روس اورافریقہ کی تجارت27ارب ڈالر سے بڑھ گئی،پیوٹن کااہم انکشاف

جمعرات 29 اکتوبر کو گرینڈ کریملن پیلس میں اجلاس کی مرکزی نشستیں منعقد ہو رہی ہیں، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن، افریقی یونین کے چیئرمین اور برونڈی کے صدر ایوارست ندائیشیمیے سمیت مختلف افریقی ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہیں۔ اجلاس میں 48 افریقی ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں، جبکہ 22 ممالک کی نمائندگی سربراہانِ مملکت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی سیاسی و اقتصادی صورت حال، بین الاقوامی سلامتی، کثیر قطبی عالمی نظام اور روس و افریقی ممالک کے درمیان مستقبل میں تعاون کو فروغ دینے کے امور شامل ہیں۔ مرکزی پروگرام میں دو مکمل اجلاس اور ایک ورکنگ بریک فاسٹ نشست رکھی گئی ہے، جس میں افریقی وفود کے سربراہان اپنے ممالک کا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔
سربراہی اجلاس کا آغاز بدھ 28 اکتوبر کو ماسکو کے تاریخی گوستینی دوور میں اقتصادی و انسانی تعاون فورم سے ہوا تھا۔ افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا تھا کہ دنیا میں کثیر قطبی نظام تشکیل پا رہا ہے اور افریقی ممالک عالمی سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یکطرفہ پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور نوآبادیاتی طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے افریقی ممالک کے ساتھ برابری، خودمختاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا۔
صدر پوتن نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران بھی روس اور افریقی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افریقی ممالک کے ساتھ روس کی مجموعی تجارت میں مصر کا نمایاں حصہ ہے۔
دو روزہ فورم میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، صنعت، معدنیات، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ پروگرام میں 40 سے زائد کاروباری اور موضوعاتی نشستیں شامل ہیں، جن میں روسی اور افریقی کمپنیوں کے نمائندے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
اجلاس کے دوسرے روز صدر پوتن کی برونڈی، نمیبیا، کینیا، سوڈان، مڈغاسکر اور زمبابوے کے رہنماؤں سمیت متعدد افریقی سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ ان مذاکرات میں سیاسی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیرِ غور آئیں گے۔
روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف کے مطابق اجلاس کے اختتام پر 33 بین الحکومتی اور بین الادارہ دستاویزات، مفاہمتی یادداشتوں اور تجارتی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ان دستاویزات کا تعلق مختلف اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون سے ہے۔
اجلاس کے اختتام پر روس افریقہ تعاون کے مشترکہ اعلامیے، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون سے متعلق الگ اعلامیے اور 2027 سے 2029 تک روس افریقہ شراکت داری کے عملی منصوبے کی منظوری بھی متوقع ہے۔ دستخطوں کی تقریب کے بعد روسی اور برونڈی کے صدور کی مشترکہ میڈیا گفتگو بھی طے ہے، جس میں اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔



