ٹیسلا کی فلائنگ کار یا ٹرک کی لال بتی؛ ایلون مسک کی سرکس بمقابلہ فزکس!

ارسلان وڑائچ
ایلون مسک نے اکتوبر 2026 میں ٹیسلا کی نئی روڈسٹر گاڑی کا ایسا مظاہرہ پیش کیا جس میں گاڑی ایک خم دار ریمپ سے اچھلتی، فضا میں قلابازی کھاتی اور دوسری گاڑیوں کے اوپر سے گزرتی دکھائی دی۔ مسک نے اسے اڑنے والی گاڑی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ روڈ سے سیدھی فضا میں پرواز بھرے گی۔ اس چٹخارے دار شوز بازی کے بعد سے گاڑیوں کے شوقین ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ پائلٹ کا پروانہ حاصل کرنے کے سپنے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن سائنسدانوں اور انجینئرز نے اس ہوائی جوش پر ایک ٹھنڈی بالٹی الٹتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے: "جناب! ذرا بریک لگائیں، ابھی یہ گاڑی گیراج میں نہیں آنے والی!”
معاملہ اصل میں یہ ہے کہ اگر آپ نے بھی مسک صاحب کے اس قلابازی والے مظاہرے سے متاثر ہو کر اپنے گھر کے گیراج کا چھپر اونچا کروا لیا ہے کہ وہاں اڑنے والی کار کھڑی کریں گے، تو فی الحال وہاں پرانا کباڑ ہی رکھ لیں! کیونکہ فزکس کا اپنا ہی الگ ڈراما ہے۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ گاڑی کو سڑک پر چلانے کے لیے لوہے کی مضبوطی، بھاری بمپر اور سیفٹی ایئر بیگز چاہیے ہوتے ہیں تاکہ ٹکر کی صورت میں بندہ سلامت رہے۔ دوسری طرف جہاز کا پہلا اور بنیادی قانون یہ ہے کہ "صاحب! وزن جتنا ہلکا ہوگا، پرواز اتنی ہی اونچی ہوگی!” اب جب آپ ان دونوں ضدوں کو ایک ہی ڈھانچے میں گھسیڑنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ایک ایسی عجوبہ سواری بنتی ہے جو نہ سڑک پر سلیقے سے چل پاتی ہے اور نہ ہوا میں ڈھنگ سے اڑ سکتی ہے۔
کچھ سرپھرے سٹارٹ اپس نے ایسے ماڈل بنانے کی کوشش ضرور کی ہے جو سڑک سے چڑیا کی طرح سیدھے اوپر کو اڑ جائیں، لیکن ان کی کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ان میں بمشکل ایک ہی بندہ بیٹھ سکتا ہے، وہ بھی اپنا سانس روک کر! اوپر سے ان کی قیمت اتنی فلک بوس اور آسمان کو چھوتی ہے کہ اتنے پیسے میں بندہ گاڑی خریدنے کے بجائے سچ مچ خود ہی اڑ جائے۔
اور فرض کریں اگر آپ نے بینک ڈکیتی کر کے یہ گاڑی خرید بھی لی، تو سڑک پر ٹریفک وارڈن کے چالان سے تو بچ جائیں گے، لیکن فضا میں ہوائی ٹریفک والے الگ ڈنڈا لے کر کھڑے ہوں گے۔ گاڑی کو ایک ہی وقت میں سڑک اور فضا دونوں کے قانون پر پورا اتارنا اتنا ہی مشکل ہے جتنی شادی کے بعد ساس اور بیوی کو ایک ساتھ خوش رکھنا!
خلاصہ یہ ہے کہ ایلون مسک جتنے مرضی ڈرامائی مظاہرے کر لیں اور فلموں میں جیسے بھی مناظر دکھائے جائیں، عملی زندگی میں اپنے گیراج سے اڑنے والی کار نکال کر دفتر جانے کا خواب فی الحال محض ایک حسرت ہی رہے گا۔ فی الحال تو سڑک کے کھڈوں اور لال بتی کے اشاروں پر ہی صبر کا گھونٹ پینا پڑے گا!



