برڈ فلو کے بعد اب شامونڈا وائرس ،پہلی انسانی ہلاکت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی!

راجہ نوید
فرانس میں شامونڈا وائرس کی زد میں آ کر پہلی انسانی ہلاکت کے بعد جہاں عالمی طبی ماہرین سکتے میں آ گئے ہیں، وہیں دنیا بھر میں ایک نئے صحتی بحران کا خوف بھی محسوس کیا جانے لگا ہے۔ ابھی دنیا برڈ فلو (H5N1) کی ممالیہ جانوروں میں منتقلی اور اس کے متوقع خطرات سے پوری طرح سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ یورپی خطے سے آنے والی اس خبر نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
شامونڈا وائرس (Shamonda Virus) کا شمار بنیادی طور پر ان وائرسز میں ہوتا ہے جو مویشیوں یعنی گائے، بھیڑوں اور بکریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وسطی نائجیریا میں ساٹھ کی دہائی کے دوران پہلی بار سامنے آنے والے اس وائرس کو دہائیوں تک صرف حیوانی دنیا تک ہی محدود سمجھا جاتا رہا۔ تاہم 2026ء کے دوران یورپ کے فارمز میں جانوروں کے اندر اس کے دوبارہ ابھرنے اور اب فرانس میں ایک ہسپتال میں زیرِ علاج شخص کی موت کی تصدیق نے سائنسی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ فرانسیسی صحت کے حکام کے مطابق یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا درج شدہ انسانی کیس ہے۔
ابتدائی طبی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ مریض کی قوتِ مدافعت (Immune System) حد درجے کمزور تھی اور اسے ممکنہ طور پر "ہاموش” (Biting Midges) نامی کاٹنے والے حشرات کے ذریعے یہ انفیکشن منتقل ہوا، مگر اعصابی پیچیدگیوں کے باعث ہونے والی اس پہلی ہلاکت نے محققین کو ایک نئے زاویے سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خوش آئند بات فی الوقت یہی ہے کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اس وائرس کے انسان سے انسان میں براہِ راست منتقل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے، جس کا مطلب ہے کہ عام عوام کے لیے فوری طور پر کوئی بڑا وبائی خطرہ موجود نہیں ہے۔
تہم تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی حیوانی وائرس اپنی نوعیت بدل کر پہلی بار کسی انسان پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ مستقبل کی کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ برڈ فلو کا پرندوں سے ممالیہ میں منتقل ہونا اور اب شامونڈا کا پہلی بار انسانی جان لے لینا—یہ دونوں واقعات اس بات کی جانب صاف اشارہ کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور حشرات کا بدلتا جغرافیہ اب خطرناک وائرسز کو نئی شکلیں دے رہا ہے۔ عالمی اداروں کے لیے یہ لمحہ فکریہ ضرور ہے کہ وہ متعدی امراض کی نگرانی کا نظام مزید سخت کریں، قبل اس کے کہ کوئی نیا وائرس انسان کے لیے قابو سے باہر ہو جائے۔



