پنگریو تھانے کی حوالات میں موبائل فون کیسے پہنچا؟ وائرل ویڈیو نے نیا سوال کھڑا کردیا

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)سید سمن سرکار میلے میں چوری کے الزام میں گرفتار ملزمان نے حوالات سے اپنی ویڈیو جاری کردی۔سوشل میڈیاپروائرل۔ پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ گئے۔ ضلع بدین کے شہر پنگریو میں سید سمن سرکار کے سالانہ عرس و میلے کے دوران زائرین کے موبائل فون اور نقدی چوری ہونے کے واقعات کے الزام میں گرفتار مبینہ ملزمان کی تھانہ پنگریو کی حوالات (لاک اپ) کے اندر موجودگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس کے بعد پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ کھڑے ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق عرس و میلے کے دوران زائرین کی جانب سے موبائل فون اور نقد رقم چوری ہونے کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ 40 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر کے تھانہ پنگریو کی حوالات میں بند کر دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں مبینہ ملزمان حوالات کے اندر موجود دکھائی دے رہے ہیں اور ویڈیو انہی کے موبائل فون سے ریکارڈ کی گئی معلوم ہوتی ہے۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ حوالات میں بند ملزمان تک موبائل فون کیسے پہنچا، گرفتاری کے وقت تلاشی کے باوجود موبائل فون اندر کیسے لے جایا گیا اور حوالات کی نگرانی پر مامور اہلکار اس دوران کہاں تھے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال تھانے میں ملزمان کی تلاشی اور نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب میلے میں شریک زائرین اور شہریوں نے ایس ایس پی بدین اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا نوٹس لے کر شفاف انکوائری کی جائے اور غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔واضح رہے کہ سید سمن سرکار کے سالانہ عرس و میلے میں ضلع بدین سمیت سندھ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین شریک ہوتے ہیں، جن کی جان و مال کا تحفظ پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے

مزید خبریں

Back to top button