یمن میں دوبارہ مکمل جنگ کاخطرہ،اقوام متحدہ نے مذاکرات پرزوردیدیا

ہانس گرونڈبرگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ یمن کے متحارب فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں اس سیاسی عمل کا متبادل نہیں بن سکتیں جو تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے ایلچی کے مطابق تعز، لحج، مأرب، الجوف اور حجہ سمیت یمن کے مختلف علاقوں میں لڑائی شدت اختیار کرچکی ہے۔ حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد یمنی حکومت نے بھی بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ باب المندب کے اطراف میں بھی شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
ہانس گرونڈبرگ نے واضح کیا کہ یمن میں جاری تنازع کا پائیدار حل فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے اور فریقین کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں۔



