چینی ریسٹورنٹ مالک کا ملازمین کے لیے بڑا تحفہ، شدید سردی میں سکوٹر پر آنے والے ورکرز کو لاکھوں روپے مالیت کی نئی گاڑیاں دے دیں

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں ایک ریسٹورنٹ مالک نے اپنے ملازمین کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے بہترین کارکردگی دکھانے والے ورکرز کو نئی گاڑیاں تحفے میں دے دیں۔ ملازمین کو یہ انعام شدید سردی میں الیکٹرک سکوٹر پر کام پر آنے اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے اعتراف میں دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی صوبے ہینان کے شہر جیاوزو میں بیف ہاٹ پاٹ ریسٹورنٹس کی چین چلانے والی ما یانلی نے اپنے بعض ملازمین کو نئی گاڑیاں فراہم کی ہیں۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ہر گاڑی کی مالیت 3 لاکھ یوآن تھی، جو تقریباً 43 لاکھ پاکستانی روپے بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریسٹورنٹ مالک نے گاڑیاں ملازمین کے حوالے کرنے سے تقریباً دو ہفتے قبل ہی ان کی مکمل ادائیگی کر دی تھی۔ اس غیر متوقع تحفے پر ملازمین حیران رہ گئے۔
گاڑی وصول کرنے والی ملازمہ لی جی نے بتایا کہ ما یانلی نے شوروم جاتے ہوئے انہیں صرف اتنا کہا تھا کہ انہیں ایک بڑا کھلونا ملنے والا ہے، تاہم اسی روز ایک نئی سفید گاڑی ان کے نام رجسٹرڈ کر دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ما یانلی کو ملازمین کو گاڑیاں تحفے میں دینے کا خیال گزشتہ موسمِ سرما میں آیا، جب انہوں نے آٹھ سال سے ریسٹورنٹ میں کام کرنے والی لی جی کو شدید سردی کے دوران الیکٹرک سکوٹر پر کام پر آتے دیکھا۔ سرد ہوا کے باعث ملازمہ کا چہرہ سرخ، کان جامنی اور ہاتھ اکڑے ہوئے تھے۔
ملازمہ کی یہ حالت دیکھ کر ما یانلی نے سوچا کہ جب وہ خود آرام دہ گاڑی میں سفر کر سکتی ہیں تو ان کے ملازمین کو سخت موسمی حالات میں مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑے۔ اسی احساس نے انہیں ملازمین کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کی ترغیب دی۔
چین میں ملازمین کی محنت کے اعتراف میں بھاری انعامات دینے والے کاروباری افراد کے اقدامات بھی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہینان کوانگ شان کرین کمپنی کے چیئرمین سوئی پی جون نے 2025 میں چینی نئے سال کے موقع پر ملازمین میں مجموعی طور پر 18 کروڑ یوآن کے بونس تقسیم کیے تھے۔
ما یانلی کا یہ اقدام اس بات کی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے کہ بعض کاروباری ادارے ملازمین کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات اور فلاح و بہبود کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔



