لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ہاؤسنگ سوسائٹی کی تاخیر سے دائر اپیل خارج کر دی

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے محمد حسن ستار اور دیگر کے معاملے میں دائر اپیل خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ غلط فورم پر اپیل دائر کرنے کے باعث ہونے والی تاخیر خودبخود معاف نہیں کی جا سکتی، بلکہ اپیل کنندہ کو تاخیر کی معقول وجہ اور قانونی کارروائی میں مناسب مستعدی ثابت کرنا ضروری ہے۔
جسٹس چوہدری محمد اقبال اور جسٹس ملک اویس خالد پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے سوسائٹی کی سول ریگولر فرسٹ اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے اپیل دائر کرنے میں ہونے والی 2294 روز کی تاخیر معاف کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مرکزی اپیل بھی میعاد گزرنے کی بنیاد پر خارج کر دی۔
عدالت نے واضح کیا کہ وکیل کا غلط مشورہ، غفلت یا قانون سے لاعلمی بذاتِ خود تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اپیل کنندہ کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس نے مناسب احتیاط اور مستعدی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کی۔
معاملہ کیا تھا؟
عدالتی فیصلے کے مطابق محمد حسن ستار اور دیگر نے 20 ستمبر 2014 کے معاہدۂ فروخت پر عمل درآمد کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے سوسائٹی کے خلاف یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے 28 ستمبر 2019 کو دعویٰ منظور کیا اور درخواست گزاروں کے حق میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز جاری کرنے کا حکم دیا۔
سوسائٹی نے اس فیصلے کے خلاف 28 اکتوبر 2019 کو ڈسٹرکٹ جج ملتان کی عدالت میں اپیل دائر کی، تاہم دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث یہ اپیل 5 مارچ 2026 کو واپس کر دی گئی۔ اس کے بعد سوسائٹی نے 16 اپریل 2026 کو لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ سے رجوع کیا اور اپیل دائر کرنے میں ہونے والی تاخیر معاف کرنے کی استدعا کی۔
غلط فورم پر اپیل دائر کرنے کا مؤقف مسترد
فیصلے میں جسٹس ملک اویس خالد نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا فورم دعوے کی مالیت اور متعلقہ قانونی دائرہ اختیار کے مطابق متعین ہوتا ہے۔ موجودہ معاملے میں غلط فورم پر اپیل دائر کرنے اور اسے چھ سال سے زائد عرصے تک زیرِ التوا رکھنے کو محض نیک نیتی کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت کے مطابق قانونِ میعاد کی دفعہ 14 کے تحت غلط دائرہ اختیار رکھنے والی عدالت میں گزارا گیا وقت خارج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ فریق نے نیک نیتی اور مناسب مستعدی کے ساتھ کارروائی کی ہو۔ نیک نیتی کا تقاضا ہے کہ معاملے کو مناسب احتیاط اور توجہ کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ واضح قانونی صورتِ حال کے باوجود غفلت سے غلط فورم کا انتخاب کرنے والے فریق کو اس کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ قانونِ میعاد کی دفعہ 5 کے تحت تاخیر معاف کرانے کے لیے بھی معقول اور قابلِ قبول وجہ پیش کرنا ضروری ہے۔ دفعہ 5 کے تحت تاخیر معاف کرنے اور دفعہ 14 کے تحت مخصوص مدت کو خارج کرنے کی شرائط الگ الگ ہیں، اس لیے غلط عدالت میں مقدمہ چلانے کا عرصہ ہر صورت اپیل دائر کرنے کی قانونی مدت سے منہا نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ تاخیر معافی کی درخواست میں ان وجوہات کی واضح وضاحت اور ثبوت پیش کرنا ضروری ہیں جن کے باعث وکیل نے غلط فورم اختیار کیا۔ محض یہ مؤقف کہ پہلے کسی دوسری عدالت میں اپیل دائر کی گئی تھی، تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق اپیل کنندہ 2294 روز کی تاخیر کی قابلِ قبول وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے قانونِ میعاد کی دفعات 5 اور 14 کے تحت دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی وجہ ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا مرکزی اپیل بھی مقررہ مدت گزرنے کے باعث خارج کی جاتی ہے۔



