ایلون مسک کا مکیش امبانی کو ’’وزیراعظم‘‘ کہہ کر طنز، بھارت میں اسٹار لنک کی اجازت اور کاروباری اجارہ داری پر نئی بحث چھڑ گئی

نیویارک(ویب ڈیسک) امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے مکیش امبانی کو طنزیہ انداز میں ’’وزیراعظم‘‘ مخاطب کرنے والے سوشل میڈیا پیغام نے بھارت میں کاروباری اثر و رسوخ، انٹرنیٹ کی سہولیات اور اسٹار لنک کی مارکیٹ تک رسائی کے معاملے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

احمد منصور کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے اپنے پیغام میں مکیش امبانی کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں یہ احساس نہیں تھا کہ امبانی بھارت کے اصل باس ہیں۔ ان کے بیان میں بھارت میں کاروباری اجارہ داری اور بڑے کاروباری مفادات کے اثر و رسوخ پر بھی تنقید کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے بھارت میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کو مقابلے کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بچوں کی تعلیم اور چھوٹے کاروباروں کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

ایلون مسک کے مطابق اسٹار لنک انٹرنیٹ سے محروم علاقوں میں بچوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور چھوٹے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی سہولت سے بھارت کے ان شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے جنہیں معیاری انٹرنیٹ میسر نہیں۔

اس پیغام کے بعد بھارت میں نریندر مودی حکومت اور بڑے کاروباری گروپس کے تعلقات سے متعلق بحث بھی دوبارہ سامنے آئی ہے۔ بھارتی اپوزیشن پہلے ہی حکومت پر بڑے کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، تاہم ان الزامات کی نوعیت اور ان پر متعلقہ فریقوں کا مؤقف الگ معاملہ ہے۔

ایلون مسک کے طنزیہ جملے کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ ملی ہے۔ اس معاملے پر ہونے والی بحث میں ایک جانب اسٹار لنک کو بھارتی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت دینے کا سوال زیرِ بحث ہے، تو دوسری جانب انٹرنیٹ تک رسائی، مسابقت اور بڑے کاروباری اداروں کے اثر و رسوخ پر بھی گفتگو کی جا رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مکیش امبانی کو ’’وزیراعظم‘‘ کہہ کر مخاطب کرنے کا مقصد بھارت میں کاروباری طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ کے تعلق پر طنز کرنا تھا۔ تاہم اس بیان کو بذاتِ خود مودی حکومت اور امبانی کے درمیان کسی غیر قانونی گٹھ جوڑ کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مزید خبریں

Back to top button