لبنان میں سکیورٹی خلا روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی جاری رہنی چاہیے، یورپی یونین

بیروت (ویب ڈیسک) یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا ہے کہ لبنان میں کسی بھی قسم کا سکیورٹی خلا پیدا ہونے سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی جاری رہنی چاہیے، جبکہ یورپی یونین لبنانی فوج کی تربیت کے لیے بھی جلد ایک مشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق کاجا کیلس نے لبنان کے دورے کے دوران واضح کیا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک لبنان میں فوجی خلا پیدا ہونے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقوں سے انخلا کے تناظر میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان (یونیفیل) کے مینڈیٹ کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ لبنان میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری انتظامات جاری رہیں اور کسی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں سکیورٹی کا خلا پیدا ہو۔

کاجا کیلس نے اعلان کیا کہ یورپی یونین لبنانی فوج کے لیے جلد ایک تربیتی مشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس مشن سے لبنانی فوج کی تربیت اور استعداد میں اضافے کے ساتھ یورپی ممالک اور لبنان کے درمیان دفاعی تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔

دورے کے دوران کاجا کیلس نے لبنان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی موجودگی اور ملک میں سکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے ان ملاقاتوں میں یونیفیل کے کردار کو اہم قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کے تقریباً 7,500 اہلکار ملک میں تعینات ہیں، جن کا تعلق تقریباً 50 ممالک سے ہے۔ یہ امن دستے 1978 سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد کے قریب تعینات ہیں اور علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button