امریکا اور ایران آمنے سامنے،آبنائے ہرمزکھولنےاوربند کرنے کی دھمکیاں،بے چینی بڑھ گئی

اسلام آباد/تہران(خصوصی رپورٹ/جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جہاں امریکا اورایران آمنے سامنے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ بیانات اور عسکری نقل و حرکت نے خطے میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے، عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کے باعث اس کی بندش یا کھلنے کی دھمکی عالمی معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے ماضی میں بھی اس گزرگاہ کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں، جبکہ امریکا اس کے آزادانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بحری موجودگی بڑھاتا رہا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اگر ان پر دباؤ بڑھایا گیا یا ان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت عالمی تجارتی راستوں کی بندش کو برداشت نہیں کرے گا اور اس کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
جنگ کے خاتمہ کیلئے سفارتی عمل میں سست روی کا ذمہ دار امریکہ ہے، اسماعیل بقائی
آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی، ایرانی افواج نے بحری جہازوں کیلئے نئی ہدایات جاری کر دیں
30 دنوں میں جنگ مکمل ختم، تہران کے امن منصوبے کی مزید تفصیلات منظر عام پر آگئیں



