یوکرین کا توانائی نظام پھر شدید متاثر، کیف میں 8 گھنٹے بجلی بند، موسم سرما مزید سخت ہونے کا خدشہ

زیلنسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں کہا کہ بجلی کے گرڈ اور ترسیلی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ توانائی بحران کے باعث یوکرین میں مسلسل تیسرے روز بھی طے شدہ لوڈشیڈنگ جاری رہی، جبکہ دارالحکومت کیف سمیت کئی علاقوں میں بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ کے باعث ہنگامی طور پر بھی بجلی بند کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق کیف میں گزشتہ روز بجلی کی بندش آٹھ گھنٹے تک جاری رہی۔ بجلی سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ اور میٹرو سروس متاثر ہوئی، جبکہ پانی کی پمپنگ کا نظام بند ہونے سے شہر کے کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی میں بھی مشکلات پیدا ہوئیں۔
کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے کہا ہے کہ شہر کو بقا کے نظام پر منتقل کردیا گیا ہے، جس سے توانائی کی موجودہ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
یوکرین کو گزشتہ موسم سرما میں بھی بجلی اور حرارتی نظام کی طویل بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ 12 سے 16 گھنٹے روزانہ تک پہنچ گئی تھی، جبکہ کیف اور دوسرے شہروں کے کچھ حصوں میں کئی روز تک حرارتی نظام دستیاب نہیں تھا۔
یوکرینی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والا موسم سرما گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ سرکاری پاور گرڈ آپریٹر یوکرینرگو کے مطابق متاثرہ توانائی تنصیبات کی مرمت کا کام تاحال جاری ہے۔
یوکرینی پارلیمان کی توانائی اور عوامی سہولتوں سے متعلق کمیٹی کے نائب سربراہ الیکسی کوچرینکو نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم سرما سے قبل پانی اور جلانے کی لکڑی کا ذخیرہ کرلیں۔
دوسری جانب روسی خبر رساں ادارے تاس کے تخمینے کے مطابق رواں سال کے وسط تک یوکرین کے گیس ذخائر تقریباً سات ارب مکعب میٹر تھے، جبکہ موسم سرما گزارنے کے لیے کم از کم 13 ارب 20 کروڑ مکعب میٹر گیس درکار ہے۔ اس فرق کے باعث ملک کو موسم سرما میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے مزید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔



