ربیع کی بوائی کے دوران پانی بند، کاشتکار سڑکوں پر نکل آئے، پنگریو میں دھرنا، شٹر ڈاؤن ہڑتال کی دھمکی

پنگریو میں بشیر احمد کھوسو، چوہدری محمد احمد کمبوہ، مخدوم اکبر علی، چوہدری شبیر کمبوہ اور علی اکبر چانڈیو کی قیادت میں کاشتکاروں نے شادی اسمال واہ پل سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دیا، جس کے باعث مختلف سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
احتجاجی کاشتکاروں نے الزام عائد کیا کہ پانی کی دستیابی کے باوجود اکرم واہ ڈویژن میں وارہ بندی کا شیڈول جاری کیا گیا، جس سے ربیع کی اہم فصلوں گندم، سرسوں، گنے اور سورج مکھی کی بوائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت زمینوں کی تیاری اور فصلوں کی کاشت کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہے، لیکن وارہ بندی کے تحت شادی سب ڈویژن کو پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔
مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ جب کوٹری بیراج کے ڈاؤن اسٹریم میں پانی چھوڑا جارہا ہے تو ربیع کی فصلوں کی بوائی کے لیے کاشتکاروں کو پانی کیوں فراہم نہیں کیا جارہا؟ ان کے مطابق بوائی کے اہم مرحلے پر پانی کی بندش سے زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے اور کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
کاشتکاروں نے اکرم واہ ڈویژن میں پانی کی بندش کا ذمہ دار ایم ڈی سیڈا کو قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وارہ بندی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور شادی سب ڈویژن میں پانی کی فراہمی فوری بحال کی جائے، تاکہ ربیع کی فصلوں کی بوائی بروقت مکمل ہوسکے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر متعلقہ حکام نے فوری نوٹس لے کر مسئلہ حل نہ کیا تو احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے میں پنگریو شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت سندھ، محکمہ آبپاشی اور سیڈا کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ پانی کی فراہمی بحال کرکے کاشتکاروں کو مزید مشکلات سے بچایا جائے۔



