تھر قحط کی لپیٹ میں،کلوئی تعلقہ سے لوگوں کی نقل مکانی جاری،مہنگائی نے محنت کشوں کی مشکلات بڑھا دیں

تھرپارکر(میندھرو کاجھروی) تھرپارکر میں مطلوبہ بارشیں نہ ہونے کے باعث قحط سالی کی صورتحال سنگین ہونے لگی ہے، جبکہ کلوئی تعلقہ کے مختلف علاقوں سے بھی مقامی باشندوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ بارشیں نہ ہونے کے باعث بارانی فصلیں سوکھنے لگی ہیں، جبکہ مویشیوں کے لیے چارے کی قلت بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ قحط سالی کی ان صورتحال میں مال مویشی پالنے والے افراد اپنے جانوروں کو بچانے کے لیے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب، مویشیوں کے لیے خشک چارے کی قیمت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت ایک ہزار روپے فی من تک پہنچ گئی ہے۔ قحط سالی کے دوران بھی کلوئی تعلقہ میں آٹے کی قیمت بڑھ کر 7 ہزار روپے فی من ہو گئی ہے، جس کے باعث محنت کش طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ مقامی محنت کشوں اور تھر کے باشندوں کا کہنا ہے کہ قحط سالی کی صورتحال پہلے بھی پیدا ہوتی رہی ہے، لیکن اس مرتبہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، مویشیوں کے لیے چارے کی قلت اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب خاندانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ تھر کے باشندوں اور محنت کشوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی اقدامات کیے جائیں، مویشیوں کے لیے چارہ فراہم کیا جائے اور غریب خاندانوں کو سستا آٹا اور دیگر ضروری غذائی اشیاء مہیا کی جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button