سندھ کی وحدت کے خلاف باتیں کرنے والوں کو شٹ اپ کال دی جائے، سندھ اسمبلی مضبوط قرارداد منظور کرے، سسی پلیجو

ٹھٹھہ(جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) سابق صوبائی وزیر اور سینیٹر سسی پلیجو نے کہا ہے کہ سندھ کی وحدت کے حوالے سے سندھ کے عوام کی متفقہ رائے کی نمائندگی کرتے ہوئے سندھ اسمبلی سے ایک بار پھر مضبوط قرارداد منظور کرائی جائے تاکہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والی جماعتوں کو واضح پیغام دیا جاسکے۔

ٹھٹھہ میں مختلف وفود اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سسی پلیجو نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں سندھ کی وحدت اور تقسیم کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے، تاہم وفاقی وزراء کی جانب سے سندھ کی تقسیم سے متعلق بار بار بیانات کے بعد اب دوبارہ واضح اور مضبوط قرارداد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی قرارداد کے ذریعے سندھ دشمن اور سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والی قوتوں کو شٹ اپ کال دی جاسکتی ہے اور ان کے مبینہ منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

سسی پلیجو نے الزام عائد کیا کہ سندھ کی ساحلی پٹی اور وسائل سے متعلق مختلف معاملات میں مقامی لوگوں کے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور ترقی کے نام پر دھرتی کے اصل وارثوں کے بقاء، حقوق، فلاح اور روزگار کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صنعتی اداروں میں بھی مقامی لوگوں کو روزگار سے محروم کرکے دیگر صوبوں سے افراد بھرتی کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ٹھٹھہ، سجاول، بدین اور گھوٹکی سمیت صنعتی علاقوں میں مقامی آبادی میں احساسِ محرومی پایا جاتا ہے۔

سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ میگا پروجیکٹس اور صوبے کے وسائل میں مقامی لوگوں کے حقوق اور مفادات کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی اور این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے سے متعلق تحفظات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو متعلقہ فورمز پر مزید مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

سسی پلیجو نے کہا کہ سندھ حکومت کو ایسی کسی قانون سازی یا آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو سندھ کے حقوق کی ضمانت نہ دے۔ ان کے مطابق سندھ کی ساحلی پٹی اور معدنی وسائل کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

پمز اسپتال اسلام آباد میں بچوں کی اموات کے واقعے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے سسی پلیجو نے متعلقہ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی ذمہ داری کا تعین کرکے متعلقہ افراد کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button