قانون ہاتھ میں لینے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، محسن نقوی

چارسدہ(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔
محسن نقوی نے فیڈرل کانسٹیبلری ٹریننگ سینٹر چارسدہ شب قدر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اینٹی رائٹ ونگ کی خصوصی تربیتی مشقوں کا معائنہ کیا اور اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جدید تربیت اور آپریشنل تیاری کو سراہا۔
اینٹی رائٹ ونگ کے اہلکاروں نے ہجوم کو کنٹرول کرنے، حساس مقامات کے تحفظ، پرتشدد صورتحال سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے سے متعلق مختلف عملی مشقوں کا مظاہرہ کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اینٹی رائٹ فورس کو جدید خطوط پر تربیت دی گئی ہے اور امن و امان کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فورس مکمل طور پر تیار ہے۔ ملک کے امن، استحکام اور سلامتی کو کسی صورت سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے اور قانون نے احتجاج کا طریقہ کار واضح کردیا ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد، توڑ پھوڑ، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
انہوں نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی تربیت بھرپور طریقے سے مکمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں کو بین الاقوامی معیار کا جدید پروٹیکشن گیئر فراہم کیا جارہا ہے تاکہ فیلڈ میں ان کی حفاظت اور آپریشنل استعداد یقینی بنائی جاسکے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے تمام جوانوں کو گیس ماسک فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی اور تربیت محنت، لگن اور مکمل پیشہ ورانہ جذبے سے مکمل کرنے پر زور دیا۔
محسن نقوی نے ایف سی ہیڈکوارٹر میں کھیلوں کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیار کا سوئمنگ پول بھی تعمیر کیا جائے گا۔ انہوں نے بیرکس کا دورہ کرکے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کیے، جبکہ تمام واش رومز ازسرنو تعمیر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اہلکاروں نے بتایا کہ گزشتہ دورے میں اٹھایا گیا لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل ہوچکا ہے اور اب بلا تعطل بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ نے ایک اہلکار کی والدہ کے کینسر کے علاج کے لیے بھی فوری اقدامات کی ہدایت کی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ زیر تربیت اہلکاروں میں تمام صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی نمائندگی حاصل ہے، جبکہ تربیتی پروگرام میں پہلی مرتبہ 35 خواتین اہلکار بھی شامل ہیں۔



