جعلی کرنسی نوٹ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے دو لاکھ روپے کی جعلی پاکستانی کرنسی رکھنے کے مقدمے میں گرفتار ملزم محمد سرور کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس محمد امجد پرویز نے ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کا مبینہ اعترافی بیان قابل قبول ثبوت نہیں، جبکہ جعلی کرنسی بنانے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام کی تائید میں بھی کوئی قابل قبول شواہد موجود نہیں۔

عدالت نے محمد سرور کو ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور اتنی ہی رقم کے ایک ضامن کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے کے مطابق ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور نے ملزم کے خلاف 2 مارچ 2026 کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 489-B اور 489-C کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو ایک مصروف عوامی مقام سے گرفتار کیا گیا اور تلاشی کے دوران ایک ہزار روپے مالیت کے 200 جعلی نوٹ برآمد ہوئے۔

ایف آئی اے نے دعویٰ کیا تھا کہ ملزم نے گرفتاری کے وقت گزشتہ ایک سال سے جعلی نوٹ بنانے اور فروخت کرنے کا اعتراف کیا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ گرفتاری کے وقت کوئی آزاد گواہ شامل نہیں کیا گیا اور جعلی کرنسی بنانے یا مارکیٹ میں فروخت کرنے کے الزام کی تائید میں کوئی قابل قبول ثبوت ریکارڈ پر موجود نہیں۔

جسٹس امجد پرویز نے قرار دیا کہ ملزم کا مبینہ اعترافِ جرم قابل قبول ثبوت نہیں، جبکہ کسی سابقہ یا ممکنہ خریدار سے متعلق بھی کوئی شواہد موجود نہیں۔

عدالت کے مطابق صرف جعلی کرنسی اپنے قبضے میں رکھنا دفعہ 489-B کے جرم کے لیے کافی نہیں۔ موجودہ شواہد زیادہ سے زیادہ دفعہ 489-C کے تحت معاملہ بناتے ہیں، جس میں زیادہ سے زیادہ سزا سات سال ہے اور یہ جرم ضمانت سے متعلق ممانعت والی شق میں شامل نہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس مرحلے پر ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم موجودہ ریکارڈ مزید تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ضمانت کسی ملزم کو سزا دینے کے لیے نہیں روکی جاسکتی اور جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button