لاڑکانہ کی جامعہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کیلئے سیمینار اور واک کا اہتمام

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ کی شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں ”امیدِ گلابی 2026“ کے عنوان سے بریسٹ کینسر سے آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا،

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے کہا کہ کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجوہات جاننے کے لیے سائنسی تحقیق کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بڑھتی ہوئی آبادی، صحت سے متعلق آگاہی کی کمی اور عطائی معالجین کے غیرسائنسی طریقۂ علاج صحتِ عامہ کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موروثی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے جینیاتی مشاورت اور شادی سے قبل مناسب طبی رہنمائی کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ قریبی رشتہ داروں میں شادی سے بعض موروثی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بریسٹ کینسر سے متعلق خوف اور سماجی ہچکچاہٹ کو ختم کرکے خواتین کو بروقت طبی معائنے اور علاج کی ترغیب دی جائے۔

سیمینار  میں پروفیسر ڈاکٹر سارہ فاطمہ، ڈاکٹر مسرت، ڈاکٹر حفیظ اللہ سومرو، ڈاکٹر اقرا اور ڈاکٹر شگفتہ سولنگی نے بریسٹ کینسر سے متعلق غلط فہمیوں، ابتدائی علامات، بریسٹ سیلف ایگزامینیشن، علاج میں تاخیر کے نقصانات، تشخیص اور علاج کے مختلف طریقوں پر مفید معلومات فراہم کیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ چھاتی میں کسی بھی غیرمعمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر طبی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے، جبکہ سیلف ایگزامینیشن ڈاکٹر کے معائنے اور تجویز کردہ تشخیصی ٹیسٹوں کا متبادل نہیں ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، 2024ء میں دنیا بھر میں تقریباً 24 لاکھ خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی، جبکہ اس بیماری کے باعث تقریباً 6 لاکھ 94 ہزار اموات ہوئیں۔ دوسری جانب، انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) کے GLOBOCAN 2022 کے تخمینوں کے مطابق، پاکستان میں خواتین میں بریسٹ کینسر کے تقریباً 30,682 نئے کیسز سامنے آئے، جبکہ اس بیماری سے تقریباً 15,552 اموات کا تخمینہ لگایا گیا۔ ماہرین نے زور دیا کہ یہ اعداد و شمار بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی، بروقت تشخیص اور مناسب علاج کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

سیمینار کے ایک اہم حصے کے طور پر عبدالصمد بھٹی کا تحریر کردہ اسٹیج ڈرامہ ”امیدِ گلابی“ بھی پیش کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے مختلف کردار ادا کیے۔ ڈرامے کے ذریعے بریسٹ کینسر سے متعلق غلط فہمیوں، خوف اور سماجی ہچکچاہٹ کو اجاگر کرتے ہوئے آگاہی، خاندانی تعاون اور بروقت علاج کا پیغام دیا گیا۔

سیمینار کے اختتام پر بریسٹ کینسر سے متعلق عوامی شعور بیدار کرنے اور مریضوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے پنک واک کا اہتمام کیا گیا۔ سیمینار کی سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر عائشہ نبیل نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، ماہرین، معاون اداروں، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

سیمینار میں ڈین پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ مگسی، پرنسپل چانڈکا میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسین سومرو، پرنسپل نرسنگ کالج نذیر احمد بروہی، ڈائریکٹر فزیوتھراپی ڈاکٹر مکیش کمار، یونیورسٹی کی فیکلٹی، شعبۂ صحت سے وابستہ عملے، خواتین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مزید خبریں

Back to top button