پاکستان ترکیہ اورسعودی عرب کےدرمیان دفاعی معاہدےکے مندرجات،اہم نکات سامنےآگئے

مکۃالمکرمہ(جانوڈاٹ  پی کے)پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے سرکاری بیانات اور معتبر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کے اہم مندرجات درج ذیل ہیں

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے اہم نکات

اجتماعی دفاع تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ایسے حملے کی صورت میں باہمی مشاورت کے بعد مشترکہ دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔

دفاعی تعاون میں اضافہ،مشترکہ فوجی مشقیں

مسلح افواج کے درمیان تعاون کو وسعت دی جائے گی۔دفاعی منصوبہ بندی اور عسکری رابطے مضبوط کیے جائیں گے۔
تینوں ممالک باقاعدہ مشترکہ فوجی مشقیں (Joint Military Exercises) کریں گے تاکہ آپریشنل صلاحیت میں اضافہ ہو۔
انٹیلی جنس شیئرنگ
دہشت گردی، سرحدی خطرات اور علاقائی سلامتی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون
دفاعی صنعت، جدید ہتھیاروں، تحقیق، پیداوار اور دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون بڑھایا جائے گا۔
علاقائی امن و استحکام
معاہدے کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور جارحیت کے خلاف مؤثر بازدار (Deterrence) پیدا کرنا ہے۔
تینوں ممالک نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
دیگر ممالک کے لیے گنجائش
سرکاری اطلاعات کے مطابق مستقبل میں دیگر علاقائی ممالک کی شمولیت کا امکان بھی کھلا رکھا گیا ہے، اگر وہ مشترکہ اصولوں سے اتفاق کریں۔
فی الحال معاہدے کی مکمل قانونی دستاویز (Treaty Text) عوام کے لیے جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے دفاعی ذمہ داریوں، فوجی کارروائی کے طریقہ کار، فیصلوں کے نظام اور نفاذ کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔ اب تک دستیاب معلومات سرکاری اعلامیوں اور معتبر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button