جنگ بندی ختم لیکن مذاکرات جاری! ایران کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی، ٹرمپ کی خطرناک وصیت، کیا کھیل چل رہا ہے بھئی؟

نہال معظم

​امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، لیکن اس بار صورتحال ماضی سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ میدانِ جنگ میں میزائل، ڈرون اور فضائی حملے جاری ہیں، جبکہ پسِ پردہ سفارتی رابطے بھی مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ بظاہر دونوں ممالک ایک دوسرے پر شدید حملے کر رہے ہیں، مگر اسی دوران مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ یہی متضاد صورتحال اس بحران کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا رہی ہے۔

​حالیہ دنوں میں امریکہ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیاں کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے اڈوں، فضائی دفاعی نظام، میزائل ڈپوؤں اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ ان حملوں میں صرف فوجی اہداف ہی نہیں بلکہ پلوں، ریلوے لائنوں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اسی تناظر میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی بنیادی تنصیبات پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا اور اس کا براہِ راست جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران اب کسی بھی نئی کارروائی کا دائرہ صرف امریکہ تک محدود رکھنے کے بجائے اسرائیل کو بھی براہِ راست نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے۔

​اس پوری کشیدگی کے مرکز میں صرف فوجی کارروائیاں نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی ایک مبہم شق بھی ہے، جو اب دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑے تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ شق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی اور انتظام سے متعلق ہے، لیکن اس کے الفاظ اتنے غیر واضح ہیں کہ واشنگٹن اور تہران دونوں اسے اپنی اپنی تشریح کے مطابق درست قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران نے صرف آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جہاز رانی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ایران، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، اسے اس بات کے اعتراف کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے انتظام، سکیورٹی اور مستقبل کے قواعد میں ایران کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

​یہی اختلاف اب صرف قانونی یا سفارتی بحث نہیں رہا بلکہ عملی میدانِ جنگ تک پہنچ چکا ہے۔ ایران شمالی بحری راستے پر اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اور خلیجی ممالک عمان کے ساحل کے قریب بین الاقوامی نگرانی میں متبادل بحری راستے کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسی لیے تجارتی جہازوں پر حملے اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں محض فوجی کارروائیاں نہیں بلکہ سیاسی پیغامات بھی سمجھی جا رہی ہیں۔ ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ پر موجود ایسا دباؤ کا ذریعہ ہے جسے وہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی سمیت کئی معاملات میں سودے بازی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اور خلیجی اتحادی کسی صورت نہیں چاہتے کہ دنیا کی تیل اور گیس کی بڑی ترسیل ایک ہی ملک کی مرضی کی محتاج بن جائے۔

​اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے اس بحران میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف انہوں نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ ہے کیونکہ تہران نے خود اس کی درخواست کی تھی، لیکن دوسری طرف انہوں نے صاف الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن اب سفارت کاری اور طاقت، دونوں کو بیک وقت استعمال کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ امریکہ مذاکرات بھی جاری رکھنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی فوجی دباؤ برقرار رکھ کر ایران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔

​ٹرمپ کے بیانات کا ایک اور اہم پہلو ان کی یہ دھمکی نما وصیت ہے کہ اگر ایران انہیں قتل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا، تو امریکہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی فوج کو پہلے ہی ایسے کسی بھی حملے کے جواب میں ایران پر ہزاروں میزائل داغنے اور ایک سال تک جاری رہنے والی وسیع فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی نئی ایرانی سازش کی باضابطہ اطلاع نہیں ملی، تاہم ان کا یہ اصرار برقرار ہے کہ ایران کئی برسوں سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

​یہ شدید بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب امریکی میڈیا، بشمول سی این این اور وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایک نئی اور مخصوص ایرانی سازش سے متعلق خفیہ انٹیلی جنس فراہم کی ہے، جس میں مبینہ طور پر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ شامل ہے۔ امریکی حکام پہلے ہی اس نوعیت کی اطلاعات پر نظر رکھے ہوئے تھے، تاہم اسرائیل کی جانب سے ملنے والی تازہ معلومات کو نئی اور زیادہ مخصوص قرار دیا گیا۔ واضح رہے کہ ایران ماضی میں کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ جنوری 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے امریکی حملے میں قتل کا بدلہ لینا چاہتا ہے، جس کا حکم ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران دیا تھا۔

​خطرات کی یہ شدت محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی پر معمول کے برعکس اپنا پرانا صدارتی طیارہ استعمال کیا، جبکہ نیا صدارتی طیارہ، جو قطر کا تحفہ ہے، پہلے ہی برطانیہ بھیج دیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ امریکی خفیہ سروس نے سکیورٹی احتیاط کے طور پر کیا، جس سے یہ قیاس آرائیاں بھی بڑھیں کہ ٹرمپ کو ممکنہ خطرات کے باعث اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، ممکنہ انتقامی کارروائیوں اور خطے میں دوبارہ بڑے فوجی تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔

​اس پورے بحران کا ایک اور اہم پہلو ایران کے اندر فیصلہ سازی کا ڈھانچہ بھی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سیاسی حکومت مذاکرات پر آمادہ بھی ہو، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا پاسدارانِ انقلاب اور دیگر طاقتور ادارے انہی شرائط پر عمل درآمد کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں۔ یہی غیر یقینی کیفیت کسی بھی معاہدے کو کمزور بنا دیتی ہے، کیونکہ کسی بھی مفاہمت کی کامیابی صرف دستخطوں سے نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کی صلاحیت سے مشروط ہوتی ہے۔

​مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ بحران صرف امریکہ اور ایران کے درمیان طاقت کی آزمائش نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے توازنِ قوت کا امتحان بھی ہے۔ آبنائے ہرمز پر کنٹرول، اسرائیل کو دی جانے والی ایرانی دھمکیاں، امریکی فضائی حملے، ٹرمپ کی سخت وارننگز اور پسِ پردہ جاری مذاکرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی غلط اندازہ بھی وسیع علاقائی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو آبنائے ہرمز سے شروع ہونے والا بحران صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو براہِ راست اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button