تہران کی فیونرل ڈپلومیسی:ایئرپورٹ پرسکول بیگز سے تعزیتی ہال میں قرآنی آیات تک:عالمی طاقتوں کو چونکا دینے والا پیغام

تحریر:معظم فخر

​تاریخ کے صفحات میں بعض واقعات ایسے درج ہوتے ہیں جو محض ایک رسمی الوداع یا سوگواروں کا اجتماع نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے اندر ایک نئے سیاسی منظر نامے، غیر متوقع سفارتی حکمتِ عملی اور بدلتی ہوئی عالمی بساط کا پورا عکس سمیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ تہران کی حالیہ فضاؤں میں سسکتی اور گونجتی ہوئی آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات بھی ایک ایسا ہی تاریخ ساز واقعہ ثابت ہوئی ہیں، جس نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر اب اگلی چال کون سی چلی جائے گی۔ یہ اجتماع محض نوے لاکھ سے زائد انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہی نہیں تھا بلکہ یہ تہران کی سنگلاخ گلیوں سے لے کر عالمی اقتدار کے ایوانوں تک ایک ایسا واضح اور دوٹوک پیغام تھا جسے نہ تو واشنگٹن نظرانداز کر سکتا ہے اور نہ ہی تل ابیب کے لیے اسے ہضم کرنا آسان ہوگا۔ جنازے کے اس ہجوم میں گونجنے والے انتقام اور مرگ بر امریکہ و اسرائیل کے فلک شگاف نعرے روایتی احتجاج نہیں تھے، بلکہ یہ ایرانی عوام کی طرف سے اپنی نئی اور موجودہ لیڈرشپ کے سامنے رکھا گیا ایک ایسا کڑا امتحان تھا جس نے پسِ پردہ چلنے والی تمام تر سفارتی لچک پر ایک ہی جھٹکے میں کاٹا لگا دیا ہے۔ ایرانی معاشرے اور قیادت کے درمیان اس وقت جو ایک خاموش رسہ کشی جاری ہے، اس کا اندازہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف م کے حالیہ سنسر شدہ انٹرویو سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جہاں امریکہ کے ساتھ تین سو بلین ڈالر کے معاوضے اور جوہری پروگرام پر گفتگو کے حصوں کو حذف کیا گیا۔ لیکن عوام کے اس ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی پسِ پردہ ڈیل یا سمجھوتے کے متمنی نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک حتمی اور فیصلہ کن معرکے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس شدید عوامی دباؤ نے صدر مسعود پزیشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہاتھ پاؤں اس طرح باندھ دیے ہیں کہ اب واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی میز پر لچک دکھانا ان کے لیے داخلی سطح پر شدید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

​ایران نے اس موقع پر جو تدفین سفارت کاری یا فیونرل ڈپلومیسی متعارف کرائی، وہ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک اچھوتا اور سحر انگیز باب ہے۔ نوے سے زائد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطحی وفود کی آمد کو ایران نے اپنے یکطرفہ موقف کی تشہیر کے لیے نہیں، بلکہ ایک علامتی جنگ کے لیے استعمال کیا۔ تہران انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے وی وی آئی پی ٹرمینل پر جیسے ہی بیرونی دنیا کے سفارت کاروں نے قدم رکھا، تو ان کا استقبال کسی روایتی ریڈ کارپیٹ سے نہیں بلکہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایرانی شہر میناب کے شجرۂ طیبہ پرائمری اسکول میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کے اسکول بیگز اور ان کی تصاویر سے کیا گیا۔ یہ ایک ایسا خاموش مگر دل ہلا دینے والا پیغام تھا جس نے ہر آنے والے وفد کو یہ باور کرایا کہ جس جارحیت کو وہ ایک دفاعی کارروائی سمجھتے رہے ہیں، اس کی اصل قیمت ان معصوم بچوں نے اپنے خون سے چکائی ہے۔ اس بصری سفارت کاری کے بعد تعزیتی ہال کے اندر جو کچھ ہوا، وہ تو دانشوروں اور سیاسی مبصرین کو ششدر کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ہر وفد کی آمد پر بجائی جانے والی مخصوص موسیقی، جسے معروف فنکار امیر حسین سمین نے چھ حصوں پر مشتمل شہید لیڈر کے عنوان سے ترتیب دیا تھا، فضا میں ایک عجیب سحر طاری کر رہی تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر جو ماسٹر اسٹروک تہران نے کھیلا، وہ قرآنی آیات کی تلاوت کے ذریعے ہر ملک کو اس کے کردار کا آئینہ دکھانا تھا۔

​جب سعودی عرب کا وفد ہال میں داخل ہوا تو سورہ آلِ عمران کی وہ آیت تلاوت کی گئی جو اللہ کی راہ میں لڑنے والے اور کافروں کے دو گروہوں کے مابین تفریق اور مسلمانوں کے لیے الٰہی مدد کی بات کرتی ہے، جو کہ ایک گہرا سیاسی اور علامتی اشارہ تھا۔ ترک وفد کے سامنے سورہ نساء کی وہ آیت پڑھی گئی جس میں مجاہدین کو عام لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، جبکہ قطری وفد کا استقبال سورہ الفتح کی اس آیت سے ہوا جو مغفرت اور سیدھی راہ کی نوید سناتی ہے۔ حماس اور لبنانی حزب اللہ کے وفود کے سامنے بالترتیب سورہ احزاب اور سورہ مائدہ کی ان آیات کی تلاوت کی گئی جو اپنے عہد کو سچا کر دکھانے والوں اور اللہ کی جماعت کے حتمی غلبے کا اعلان کرتی ہیں، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ایران اپنے ان اتحادیوں کو مزاحمت کا اصل ستون مانتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جب پاکستانی وفد ہال میں داخل ہوا تو سورۃ الاسراء کی وہ دعا پڑھی گئی جو سچائی کے ساتھ داخل ہونے، سچائی کے ساتھ نکلنے اور اللہ کی طرف سے ایک مددگار قوت عطا کیے جانے کی التجا کرتی ہے، جو کہ پاکستان کے تزویراتی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اسی طرح انڈین وفد کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔ قرآنی کلام کے ذریعے کی جانے والی اس بے مثل سفارت کاری نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ تہران ہر ملک کی پالیسیوں اور اس جنگ میں ان کے تزویراتی وزن سے بخوبی واقف ہے اور وہ اپنے تعلقات کی بنیاد انہی خطوط پر استوار کرے گا۔ یہ جنازہ محض ایک بزرگ رہنما کی تدفین کا عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایرانی عوام کا ایک ایسا کھلا ریفرنڈم تھا جس نے تہران کی نئی قیادت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب جبکہ عالمی سطح پر نیٹو کا اجلاس انقرہ میں ہونے جا رہا ہے اور دوسری طرف اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، تہران کی گلیوں سے اٹھنے والا یہ شدید عوامی ردعمل ان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کو انتہائی پیچیدہ اور کٹھن بنا چکا ہے۔ ایرانی عوام نے کسی بھی قسم کی رعایت پر واضح طور پر کاٹا لگا دیا ہے، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی نظام کے اس دور میں تہران کی موجودہ قیادت عوامی امنگوں اور بین الاقوامی دباؤ کے اس سمندر کے درمیان اپنی بقا اور توازن کا راستہ کیسے تلاش کرتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button