سن اسکرین کب، کتنی اور کیسے؟ جلد کی حفاظت کا مکمل فارمولا

تحریر:ایمل سفیان

​سن اسکرین محض کوئی بیوٹی پروڈکٹ نہیں بلکہ اسکن کیئر کی دنیا کا وہ سب سے بڑا ہتھیار ہے جو ہماری جلد کو سورج کی خطرناک شعاعوں کے بدترین اثرات سے بچاتا ہے۔ تیز دھوپ سے نکلنے والی یو وی اے اور یو وی بی شعاعیں نہ صرف جلد کو وقت سے پہلے جھریوں اور بڑھاپے کی طرف دھکیلتی ہیں بلکہ ضدی داغ دھبے، پگمنٹیشن اور رنگت کے گہرے ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہیں۔ اس صورتحال میں ایک بہترین سن اسکرین کا انتخاب ناگزیر ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہنگی ترین پروڈکٹ خریدنے کے باوجود اکثر لوگ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس کے استعمال کی صحیح مقدار سے ناواقفی اور روزمرہ بیوٹی روٹین میں اس کی غلط ترتیب ہے۔ ماہرینِ جلد کے مطابق چہرے اور گردن کی مکمل حفاظت کے لیے "دو انگلیوں کا اصول” اپنانا بے حد ضروری ہے، جس کے تحت اپنی شہادت اور درمیانی انگلی پر سن اسکرین کی دو مکمل لکیریں لگا کر اسے چہرے پر یکساں پھیلایا جاتا ہے۔ اس سے کم مقدار آپ کو وہ تحفظ فراہم نہیں کر پاتی جو عبّادے پر درج ہوتا ہے، جبکہ جسم کے باقی کھلے حصوں کے لیے تقریباً دو بڑے چمچ کے برابر مقدار درکار ہوتی ہے۔

​اس حفاظتی ڈھال کو کارآمد بنانے کے لیے بازار سے سن اسکرین خریدتے وقت اندھا دھند انتخاب کے بجائے اپنی جلد کی نوعیت کو سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ چکنی یا دانے دار جلد کے لیے ہمیشہ واٹر بیسڈ, جیل یا آئل فری فارمولا بہترین رہتا ہے تاکہ مسام بند نہ ہوں، جبکہ خشک جلد والوں کو کریمی لوشن کا انتخاب کرنا چاہیے جو جلد کو ضروری نمی بھی فراہم کرے۔ حساس جلد کے حامل افراد کے لیے منرل سن اسکرینز سب سے زیادہ محفوظ ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان میں موجود زنک آکسائیڈ جلد پر کسی قسم کی جلن یا سرخی پیدا نہیں ہونے دیتا۔ تاہم، اسکن کیئر کے اس پورے سفر میں سن اسکرین کی افادیت تبھی ممکن ہے جب اسے چہرے پر لگانے کی درست ترتیب معلوم ہو۔ خوبصورت اور شاداب جلد کا سنہری اصول یہ ہے کہ پروڈکٹس کو ہمیشہ ان کی ساخت کے ہلکے پن سے بھاری پن کی طرف لگایا جاتا ہے۔ صبح چہرہ دھونے کے بعد سب سے پہلے "سیرم” لگایا جاتا ہے جو انتہائی پتلا ہونے کی وجہ سے جلد کی گہرائی میں اتر کر مخصوص مسائل پر کام کرتا ہے۔ سیرم کے بعد "موئسچرائزر” کی باری آتی ہے جو جلد کی نمی کو لاک کرتا ہے۔ جب موئسچرائزر جلد میں جذب ہو جائے، تو اس پورے عمل کے سب سے آخری اور اہم ترین مرحلے پر "سن اسکرین” لگائی جاتی ہے۔ اسے سب سے آخر میں اس لیے رکھا جاتا ہے تاکہ یہ جلد کے اوپر ایک بیرونی ڈھال بنا سکے جو سورج کی شعاعوں کو اندر جانے سے روکے۔ اگر آپ سن اسکرین کے اوپر کوئی دوسری کریم مل لیں گے تو اس کی افادیت ختم ہو جائے گی۔ دھوپ میں نکلنے سے بیس منٹ پہلے یہ ڈھال تیار ہونی چاہیے اور یاد رہے کہ اس کا اثر محض دو گھنٹے رہتا ہے، اس لیے طویل وقت باہر گزارنے کی صورت میں اسے دوبارہ لگانا مت بھولیں تاکہ جلد ہمیشہ جوان رہے۔

مزید خبریں

Back to top button